۷۹ از ۱۰۰
جس رجمنٹ میں (ٹھیکیدار عبدالرحمٰن اینڈ برادرز) جنرل منیجر تھے۔ یہ گورا رجمنٹ گھڑیال چھاؤنی مری میں مقیم تھی۔ ولی محمد کشمیری بازار میں انڈے فروخت کرتا تھا اُس نے حضور سرکارِ عالی کی خدمتِ اقدس میں عرض کی کہ حضور بارش کے لیے دُعا فرمائیں۔ ہماری فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ ہر جاندار چیز بے حال ہو رہی ہے آپ نے دُعا فرمائی۔ چند گھنٹوں کے بعد آسمان پر بادل چھا گئے اور بارش شروع ہو گئی جو کافی عرصہ جاری رہی عقیدت مند بہُت خوش ہُوئے۔
کچھ ایّام کے بعد آپ کی گورا رجمنٹ اپر باڑیاں تحصیل مری بھیج دی گئی یہاں پر آپ کے ذکر و اذکار کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا تھا۔ رات کے ایک بجے پہاڑ کے دامن میں واقع شیروں والی باؤلی (مقام لوئر باڑیاں) پر پہنچ کر وضو فرماتے اور صُبح تک یہیں یادِ الٰہی میں مستغرق رہتے سُورج نکلنے کے بعد یہاں سے روانہ ہوتے اور ناشتہ کر کے اپنی ملازمت پر چلے جاتے (اپر باڑیاں سے نصف میل قریب فاصلہ پر آپ نے کافی شاپ لگائی اور پُوری کی تھی) ملازمت سے شیخ عبدالرحمٰن کو استعفےٰ دیکر گھر تشریف لاتے اور ہزارہ کی پہاڑیوں میں تشریف لے گئے۔ چھ ماہ تک والہانہ انداز میں وُہ عبادت کی جو اللہ والے ہی کر سکتے ہیں۔ تمام دن روزہ رکھنا ساری ساری رات کھڑے رہ کر عبادت میں مصروف رہنا۔ چشموں کا پانی پینا اور جنگلوں کے پھل کھا کر گزارہ کرنا آپ کا معمول تھا۔ اِنسانوں سے دُور پہاڑوں اور ویرانوں میں رہتے۔ اس دوران ابدال قطب آپ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتے اور احکام وصول کرتے جنگلی درندے ساری ساری رات آپ کے گرد گھومتے رہتے۔ آپ جب نوافل سے فارغ ہوتے تو درندے [ناخواندہ] میں سر رکھ کر واپس چلے جاتے۔
حضور سرکارِ عالیؒ ۱۹۳۶ء میں انبالہ میں قیام پذیر تھے کہ وہاں سے چند ایّام کے لیے الہ آباد
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں