۷۰ از ۱۰۰
اور دُنیا دونوں سنوار دی ہیں سکھ نے کہا کیا اس کتاب میں ہر چیز موجود ہے آپ نے فرمایا ہاں سکھ نے پُوچھا اس میں سونا بنانے کا طریقہ ہے۔ آپؒ نے فرمایا ہاں ہے سکھ نے کہا پھر بنا کر بتائیں۔ آپؒ نے ارشاد فرمایا کوئی لوہے کا ٹکڑا لاؤ سکھ نے پاس ہی پڑا ہُوا ایک لوہے کا ٹکڑا حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپؒ نے فرمایا اُسے اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھّو آپ نے نگاہ کیمیا لوہے کے ٹکڑے کی طرف کی جو سونے کی شکل میں تبدیل ہو گیا۔ تمام سکھّ حیران رہ گئے اور قدموں میں گر گئے ایک سکھ زیادہ لالچی تھا اُس نے کہا کہ جو عمل آپ نے کیا ہے وہ مجھے بھی بتا دیں۔ آپ نے جواب دیا کہ بتانے میں تو کوئی حرج نہیں مگر یہ تو بتاؤ کہ احمد حسینؒ کی نگاہ کہاں سے لاؤ گے آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تو دینِ اسلام کے سچّا ہونے اور اچھّا مُسلمان بننے کی ایک معمولی مثال دی ہے جو سچّا مُسلمان ہو اس کے پاؤں کے ذرّات سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ یاد رکھّو سونا ایک دھات ہے اور اخلاق سونے سے کہیں زیادہ قیمتی اور دوام بخش صفت ہے اور یہ صفت صرف اسلام ہی عنایت کرتا ہے اس حقیقت بھرے پیغام نے سکھّوں کی دل کی آنکھیں نورِ حقیقت سے منوّر کر دیں اور قدم پکڑ کر عرض کرنے لگے کہ ہمیں اللہ کے لیے مسلمان بنا دیجئے آپ نے ان سب کو وضو کرایا اور کلمہ طیبہ سے مالا مال فرما دیا۔ وہ سکھّ پکار اُٹھے کہ شاہ جی ہمارے بچوں کو بھی اور ہماری بیویوں کو بھی مُسلمان بنا دیں چنانچہ آپؒ نے ایک ایک کے گھر جا کر عورتوں اور بچّوں کو حلقۂ اسلام میں داخل فرمایا۔ جو تعداد میں پچاس سے زائد تھے
سیّد محمد حسین شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ۱۹۵۱ء میں بھی دربارِ عالیہ میں رہا تھا۔ میں نے اپنے چشم دید دیکھا کہ ایک عورت فہمیدہ نامی حیدرآباد سے اپنے پیٹ میں سات سال کا کرنگ لے کر آئی حضور عالی سرکار نے اس عورت کے حق میں ربّ العزّت
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں