۷۱ از ۱۰۰
میں کسی سیالکوٹ کے پیر کو نہیں مانتا۔ ان الفاظ سے میری گرفت ہو گئی۔ میری حالت انتہائی خراب ہو گئی۔ میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ مجھے نیک و بد کی تمیز نہ رہی لیکن سرکارِ عالی نے انتہائی شفقت اور مہربانی سے میری خطا معاف فرما کر مجھے ساتھ لگا لیا۔ میری حالت سنبھل گئی اور میں حضور کا بیعت ہو گیا۔
ملک بشیر الرحمان صاحب لاہور کے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ۱۹۴۴ء میں حضور سرکارِ عالی کی بیعت کی۔ اس سے قبل میں نے فلسفہ میں ایم اے پاس کیا۔ فلسفہ میں ایک شاخ ایسی ہوتی ہے۔ جو مذہب سے بے گانہ کر دیتی ہے۔ مجھ پر بھی اس کا ایسا ہی اثر ہُوا۔ اور میرے خیالات بھی نہایت گمراہ کُن ہو گئے تھے۔ میں نے کسی جگہ پڑھا تھا کہ اگر کوئی شخص حضرت سُلطان باہو سُلطان العارفین کے مزارِ اقدس پر حاضری دے تو اسکی رُوحانی راہ نمائی ہوتی ہے۔ میں بھی وہاں گیا۔ واپسی پر اتفاقاً میری مُلاقات مولوی سُلطان احمد صاحب سے ہوئی۔ جنھوں نے مجھے سرکار پاک کا پتہ بتایا۔ میں خدمتِ عالی میں حاضر ہُوا۔ اور لاکھ لاکھ شکر ہے۔ کہ سرکار پاک کی نظرِ کرم سے میری کایا پلٹ گئی۔ فاسد خیالات سے رہائی ملی۔ رُوحانی سکون نصیب ہُوا۔ عظیم ذہنی انقلاب آ گیا۔ اور ذہنی انقلاب کا آ جانا اور ذہن کو صحیح راستے پر موڑنا بھی ایک کرامت ہے۔
ایک یوم ایک فوجی جمعدار میرٹھ سے انبالہ آ کر آپ کے ہاتھ پر بیعت ہُوا بیعت کے بعد اس نے اجازت چاہی مگر نہ ملی۔ اسی اجازت کے نہ ملنے کا سلسلہ تقریباً ۳ ماہ تک جاری رہا اور مُرید بغیر پیچھے اطلاع دیے مقیم رہا۔ ایک دن آپؒ نے اجازت [ناخواندہ] دی چنانچہ جب یہ جمعدار ڈرتے ڈرتے چھاؤنی میں آیا تو اس کو کوٹ مارشل کا زبردست خوف مارے ڈال رہا تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ ہر شخص اس کی غیر حاضری کے متعلق شدید قسم کے سوال کرے گا۔ لیکن جب جمعدار چھاؤنی میں داخل ہُوا اور لوگوں سے ملا تو ہر شخص معمول کے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں