۶۹ از ۱۰۰
اُسی وقت لڑکا پیدا ہو گا۔ ایک سیٹھ تھا جس کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ اُس نے دہلی کا ٹکٹ لیکر حضور سرکار عالی کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا ابھی وہ حضور پاک کے پاس ہی کھڑا تھا کہ ایک ملازم اس کے گھر سے دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ سیٹھ صاحب مبارک ہو اللہ تعاظم و تعالیٰ نے آپ کے گھر لڑکا عطا کیا ہے۔
خلیفہ سوئم میر حسرت علی شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے دوست خلیفہ اوّل چوہدری علیم الدّین صاحب الہ آبادی (مرحوم) نے مجھے بتایا کہ حضور سرکارِ عالی ملازمت کے سلسلہ میں الہ آباد ۱۹۳۳ء میں سکونت رکھتے تھے اور میں ہر روز حضور کے دفتر میں مُلاقات کے لیے جایا کرتا تھا۔ ایک یوم میں نے سرکارِ عالی کو دیکھا کہ آپ اپنی کرسی سے اُٹھ کر کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے بازو مبارک کو زمین پر جھٹک رہے تھے اور آپ کے بازو مبارک سے پانی کے قطرے فرش پر گر رہے ہیں میں نے عرض کی کہ حضور سردی کے ایام میں یہ قطرے پسینے کے تو نہیں ہو سکتے ماجرہ کیا ہے حضور عالی نے ارشاد فرمایا چوہدری صاحب ایک جہاز سمندر میں غرق ہو رہا تھا۔ میں نے اپنے کندھے سے اُسے دھکیلا ہے جس سے جہاز بھنور سے باہر نکل گیا ہے۔ یہ پانی کے قطرے اُسی سمندر کے ہیں خلیفہ اوّل صاحب نے خلیفہ سوئم صاحب سے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے اس واقعہ کے چند ایّام بعد اُس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے جہاز کے غرق ہونے پر حضورِ عالی کو یاد کیا تھا اور اس کی حضور نے مدد فرمائی تھی۔ کیونکہ وہ شخص حضور عالیہ کا شکریہ ادا کرنے آیا تھا۔
۱۹۲۱ء میں حضور سرکارِ عالی راولپنڈی سے ایک یوم حسن ابدال تشریف لے گئے یہاں پر سکھّوں کا گردوارہ ہے جس کے باہر کافی سکھ جمع تھے آپ یہاں سے گزر رہے تھے کہ ایک سکھ نے آپؒ سے یہ سوال کیا کہ مہاراج آپ جو قرآن شریف پڑھتے ہیں اس کا فائدہ کیا پہنچا ہے آپ کو، آپؒ نے نہایت تحمل سے جواب دیا اس کتاب نے میرا دین
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں