۶۳ از ۱۰۰
دونوں بچّے زندہ ہو جاتے ہیں۔ پھر سرکار عالی نے بہت زور سے دُعا فرمائی کہ زمین تک ہل گئی۔ دونوں بیبیوں کو اندر بھیج دیا تاکہ تسلّی کر لیں۔
تھوڑی دیر بعد دونوں حاضر ہوئیں اور کہا کہ حضور بچّے زندہ ہو چکے ہیں۔ اس پر آپ نے انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی
کرم داد صاحب مری کے بیان کرتے ہیں کہ میں ۸ مارچ ۱۹۵۱ء حضور سرکار عالی کا بیعت ہوا رحیم صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ سرکار عالی ۱۹۳۳ء میں الہ آباد چھاؤنی میں وزیر علی اینڈ سنز کی کافی شاپ کے جنرل منیجر تھے ہم کافی شاپ میں چائے کا کام کرتے تھے وہاں عید کے روز ہم تفریح کی غرض سے کشتی میں بیٹھ گئے جب دریا کے درمیان پہنچے تو کشتی ملاح کے قابو سے باہر ہو گئی۔ ملاح نے کہا کہ اگر کوئی اس کشتی میں کسی بزرگ کے ماننے والا ہے تو وہ اپنے مرشد کو یاد کرے تاکہ کشتی ڈوبنے سے بچ جائے میں نے حضور سرکارِ عالی کو یاد کیا۔ تو میں نے دیکھا کہ حضور بنفسِ نفیس تشریف لائے اور ہماری کشتی کو ڈوبنے سے بچا دیا۔
رحیم صاحب بیان کرتے ہیں۔ کہ میں ۱۹۳۳ء میں حضور سرکارِ عالی کا الہ آباد چھاؤنی میں بیعت ہوا۔ حضور پاک وزیر علی اینڈ سنز کی کافی شاپ کے جنرل منیجر تھے اور میں وہاں چائے کا کام کرتا تھا۔ اور حضور کی خدمت میں رہتا تھا۔ اگر چائے کی تیاری میں دیر ہو جاتی تو حضور پاک کی پیالی سے خود بخود ٹِک ٹِک کی آواز آنی شروع ہو جاتی میں سمجھ جاتا کہ حضور پاک کو اب چائے کی طلب ہے۔
حافظ محمد سعید صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے ۱۹۵۰ء میں سرکارِ عالی کے ہاتھ پر بیعت کی، غلام رسول سرگودھا کے میرے پاس آئے ہوتے تھے۔ اُنھوں نے مجھے بتایا کہ ایک بزرگ رات کے وقت بنفسِ نفیس میرے پاس آئے اور ارشاد فرمایا کہ میں سیالکوٹ کے قریب موضع منڈیر سیّداں میں رہتا ہوں۔ حافظ سعید صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے غلام رسول سے اُن بزرگ کا حلیہ دریافت کیا۔ جو میرے سرکار عالی کا حلیہ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں