۶۲ از ۱۰۰
ہماری طرح سُننے اور بولنے کے قابل ہو گئی۔
راقم الحروف کے برادر اکبر حضرت سیّد محمد اقبال احمد حسین شاہ صاحب کو سرکارِ عالی نے بے شمار حادثوں میں بچایا ابھی سرکار عالی عالم ظاہری میں تھے کہ بھائی صاحب کی گاڑی درخت سے ٹکرا کر تباہ ہو گئی۔ لیکن آپ کو سرکارِ عالی نے بچا لیا۔ اس طرح آپ کے کئی خطرناک ایکسیڈنٹ ہوئے لیکن سرکار عالی نے ہر دفعہ اپنی کرامت سے بچا لیا۔ حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ کی جیپ کو ٹرین ایک میل تک گھسیٹتے لے گئی۔ لیکن آپ کو چوٹ تک نہ آئی۔
راقم الحروف کا بیٹا سیّد مسعود السیّد المعروف صاحبزادہ بیان کرتا ہے کہ میں آٹھویں جماعت کا امتحان دینے کے لیے سیالکوٹ جایا کرتا تھا۔ ایک دِن پیپر دے کر جب میں ریلوے روڈ کو عبور کر رہا تھا کہ ایک تیز رفتار کار مجھ سے ٹکرائی۔ میری زبان سے بے ساختہ الفاظ نکلے "باباجی بچانا" میں نے دیکھا کہ حضور سرکار عالی بنفسِ نفیس تشریف لائے اور مجھے اپنے ہاتھوں سے کار کے نیچے سے نکال لیا اور مجھے خراش تک نہ آئی یہ میرے دادا جان کرامت ہے۔
خلیفہ محمد اتفاق صاحب مری بیان کرتے ہیں کہ میں حضور پاک سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات کے ہاتھ پر ۱۹۵۱ء میں بیعت ہوا ایک دفعہ میں حاضری کے لیے دربارِ عالیہ میں آیا ہوا تھا۔ جب ظہر کی نماز کے بعد وقتِ دُعا ہوا تو میں بھی دُعا کرانے سرکارِ عالی کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ وہاں دو بیبیاں بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ پہلی بی بی نے کہا سرکار دس ماہ سے ڈاکٹری علاج کروا رہی ہوں لیکن اب میرے پیٹ میں بچّہ کرنگ بن چکا ہے۔ دُعا فرمائیں۔ دُوسری بی بی کہنے لگی حضور میرے پیٹ میں چار ماہ کا بچہ ضائع ہو چکا ہے۔ دُعا فرمائیں۔
سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارا یقین کامل ہے تو
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں