۶۴ از ۱۰۰
تھا۔ میں اس کو لیکر حضور سرکار عالی کی خدمت میں پہنچا حضور پاک کو دیکھ کر غلام رسول کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے یہی ہستی تھی جن کو میں نے اپنے گھر میں دیکھا۔ حافظ صاحب میں ان کے ہاتھ پر بیعت کروں گا۔ سرکارِ عالی کی یہ کرامت دیکھ کر غلام رسول سرگودھا کے بیعت ہو گئے۔
سیّد الف شاہ صاحب لالہ مُوسے کے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور سرکارِ عالی کے دستِ مبارک پر ۱۹۲۵ء میں بیعت کی۔ جب میں گھر گیا تو سرکار عالی میرے ساتھ تھے ریلوے کی ملازمت کی وجہ سے خدمتِ عالیہ میں حاضر ہونے میں قاصر رہتا تھا۔ [ناخواندہ] یوم حضور سرکار عالی بنفسِ نفیس میرے پاس تشریف لائے ارشاد فرمایا آپ کے سامنے کا کمرہ آج گر جائے گا۔ اس کمرہ سے سامان نکال لیں۔ میں نے کمرہ کا سامان نکالنا شروع کیا تمام گھر والے میرا مذاق اُڑا رہے تھے۔ لیکن میں اپنے مالک کے حکم کی تعمیل کر رہا تھا جب میں نے کمرہ سے سارا سامان نکال لیا تو کمرہ کی چھت گر کر زمین بوس ہو گئی پہلے جو مجھ پر ہنس رہے تھے۔ اب میں اُن پر ہنس رہا تھا۔
خلیفہ اسمٰعیل صاحب فیصل آباد کے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور [ناخواندہ] اقدس پر ۱۹۴۹ء میں بیعت کی حضور کے پردہ کرنے کے بعد شیخ منظور احمد نے اعتراض کیا کہ حضور سرکارِ عالی تو وصال فرما گئے ہیں۔ اب وہ انگلینڈ جانے کے ویزا کی اجازت کس سے لیں گے؟ دُوسرے یوم حضور سرکارِ عالی بنفسِ نفیس میرے پاس تشریف لائے اور علیک سلیک کی۔
حافظ الہ بخش بیان کرتے ہیں کہ میں نے ۱۹۵۰ء میں حضور سرکارِ عالی کی بیعت کی۔ ایک یوم میں دربار شریف میں سرکارِ عالی کے لنگر میں دسترخوان پر کھا[ناخواندہ] رہا تھا۔ میرے ساتھ عیسائی مذہب کا ایک شخص کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ میری چونکہ بینائی نہ تھی اس لیے میں معلوم نہ کر سکا۔ روضہ پاک سے سرکارِ عالی نے ارشاد فرمایا "حافظ الہ بخش میرے ساتھ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں