۵۲ از ۱۰۰
اور چھوٹے بہن بھائی اکثر بیمار رہتے تھے۔ مختلف ڈاکٹروں، حکیموں اور پیروں سے علاج کرایا لیکن فائدہ نہ ہوا۔
حضور سرکارِ عالیؒ کے ایک پُرانے مُرید نے ہمیں مشورہ دیا کہ میرے مُرشدِ پاک کے وظیفے پر چلو تو ساری دینی و دُنیاوی مشکلات حل ہو جائیں گی چنانچہ میرے والد ہم سب کو لے کر سیالکوٹ دربار شریف منڈیر مُعلّیٰ میں حاضر ہوئے۔ بڑے صاحب نے دُعا فرمائی۔ اُن کی دُعا سے ہمارے سب گھر والے تندرست ہو گئے۔ اس کے بعد ہم سب بیعت ہو گئے اور آج تک اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم سب تندرست ہیں۔
حضرت محبوب ذات حضور سرکارِ عالی کی عنایت سے اور اوّل صاحب کی دُعا سے مجھے بطورِ مدرس ملازمت ملی۔ ملازمت کے ساتھ رہائش کے لیے بھی میر پور شہر میں ایک اچھا مکان ملا۔ میرے چھوٹے بھائی بھی اللہ تعالےٰ کے فضل سے تعلیم مکمل کر رہے ہیں حضور سرکارِ عالی کی نظر کیمیا نے ہمارے تمام دُنیاوی کام سنوار دیئے۔ ہمارے دلوں کو اللہ تعاظم و تعالےٰ کے نور سے منوّر فرمایا اور ہمیں پنجتن پاک علیہم السلام دوازدہ امامین” چہاردہ معصومین علیہم السلام اور حضرت غوثِ اعظم کی زیارت سے مشرف فرمایا۔
ابراہیم نے بیان کیا کہ میں آٹھ سال کا تھا، جب میرے والدین جمّوں و کشمیر میں ۱۹۴۷ء کے فسادات میں شہید ہو گئے۔ میں دیگر مہاجرین کے ہمراہ جہلم پہنچ گیا۔ ایک دن میری رحمت علی عرف میجر صاحب سے اتفاقاً ملاقات ہوئی۔ وہ مجھے بے سہارا دیکھ کر اپنے گھر لے آئے اور اپنی اولاد کی طرح میری پرورش کرنے لگے۔
ایک دفعہ میں میجر صاحب کے ہمراہ گیارہویں شریف کے موقعہ پر دربار پاک منڈیر سیّداں میں حاضر ہوا، تو مجھے حضور سرکار عالیؒ نے دربار شریف رہنے کی اجازت
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں