۵۱ از ۱۰۰
خلیفہ اوّل علیم الدین صاحب صدیقی، خلیفہ ثانی جناب عبدالحفیظ صاحب، خلیفہ سوم جناب میر حسرت علی شاہ اور خلیفہ چہارم جناب دوست محمّد صاحب ابھی دربار شریف میں موجود تھے۔ میں دربار شریف رہ گیا اور اپنے شہر اللہ آباد نہ گیا۔ اُس وقت سے میں دربار شریف میں ہوں۔
ایک دفعہ مجھے ایک بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا کر پکے فرش پر پٹخ دیا۔ اور دونوں سینگ میری چھاتی پر رکھ دیئے۔ وہ مجھے سینگ مار کر ختم ہی کرنا چاہتا تھا کہ میری زبان سے معاً الفاظ نکلے "یا سرکار عالی المدد" بیل چشمِ زدن میں مجھ سے دور ہو گیا۔
عبدالحکیم صدیقی عرف سیٹھ صاحب رقمطراز ہیں کہ میں ۱۹۵۲ء میں دربار شریف آیا۔ میرے بیوی بچّے کراچی میں تھے۔ حضور پاکؒ نے ارشاد فرمایا "سیٹھ صاحب! اپنے بیوی بچّوں کو بھی لے آئیں"۔ میں نے عرض کیا کہ حضور آپ خود بلا لیں۔ تیسرے روز میرے بیوی بچّے دربار شریف میں موجود تھے۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ تم کیسے آئے؟ میری بیوی نے بتایا کہ بچّے رات کو سوئے ہوئے تھے اور میں بیٹھی ہوئی تھی کہ حضور سرکار عالی بنفس نفیس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا بی بی جی آپ کے شوہر سیٹھ عبدالحکیم میرے پاس ہیں آپ صبح اُٹھ کر منڈیر سیّداں سیالکوٹ آ جائیں یہ کہہ کر خود غائب ہو گئے۔ حسب حکم میں حاضر ہو گئی ہوں
ہم ۱۹۶۵ء میں جمّوں و کشمیر سے مہاجر ہو کر میر پور آزاد کشمیر میں آباد ہوئے گھر بار چھن جانے کے بعد نہایت ہی کسمپرسی کی حالت تھی۔ کوئی ذریعہ معاش نہ تھا حتےٰ کہ رہنے کے لیے اچھا مکان بھی نہ تھا۔ ایک معمولی سے جھونپڑے میں رہتے تھے۔ میری والدہ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں