۵۳ از ۱۰۰
[ناخواندہ] گئے۔ حضورؒ پاک نے ایک خالی دیگ پر اپنا تولیہ مبارک ڈال دیا اور ارشاد فرمایا۔ "اس دیگ سے جتنا چاہو کھانا نکال لو۔ جب تک تولیہ نہ ہٹاؤ گے کھانا نکلتا آئے گا" اور ایسا ہی ہوا۔
ایک بدعقیدہ شخص جو بیمار تھا اُس نے مجھے طعنہ دیا اگر تیرا پیر مجھے تندرست کر دے تو میں اُن کا بیعت ہو جاؤں گا۔ میں اسے لے کر دربار شریف حضور پاک کے پاس لایا۔ آپ نے دُعا فرمائی اُس پر آنِ واحد میں اثر ہوا اور وہ بالکل تندرست ہو گیا۔ اُس نے حضور سے بیعت ہونے کی التجا کی۔ حضور نے اُسے بیعت کر لیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور حضور سرکار عالی حضرت محبوب ذات کی کرم نوازی ہی تھی کہ لاعلاج شخص صحت کاملہ کا حامل ہوا۔
شیخ نیاز احمد صاحب (موجودہ رہائش پذیر فیصل آباد) بیان کرتے ہیں کہ میں سرکار عالی کا ۱۹۴۶ء میں بیعت ہوا۔ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہندوستان کے وقت میں نے اپنی [ناخواندہ] [ناخواندہ سطر] فیصل آباد سے دہلی جانے کے لیے گاڑی میں سوار کرایا۔ لاہور [ناخواندہ] انہوں نے قتل و غارت کا بازار گرم ہوتے دیکھا۔ وہ اکیلی پریشان حال کھڑی تھیں۔ کیا دیکھتی ہیں کہ ایک بزرگ ہستی ترکی ٹوپی پہنے تشریف لاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نیاز احمد (اس وقت میرا نام سوشیل کمار تھا) کی بہنیں ہو۔ تم لوگ میرے ساتھ آؤ۔ اُس وقت ایک گاڑی دہلی جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ اور ایک جم غفیر گاڑی پر سوار تھا۔ آپ ایک بوگی کے سامنے تشریف لائے اور فرمایا کہ اس میں چار جگہ خالی ہیں۔ یہاں بیٹھ جاؤ اور دہلی سے پہلے نہ اُترنا اور یہ بھی فرمایا کہ اس گاڑی پر کوئی حملہ نہ ہو گا اور پھر یہ گاڑی صحیح سلامت [ناخواندہ] پہنچ گئی اور اس گاڑی میں سوار ایک فرد کا بھی قتل نہ ہوا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں