۵۰ از ۱۰۰
آپ تو ظاہری طور پر میرے پاس گلالی پور پہنچے۔ آپ نے مُسکراتے ہوئے فرمایا۔ خدا جانے یہ کیا بھید ہے۔
رحمت علی عرف میجر صاحب جہلم بیان کرتے ہیں کہ میں ۱۹۵۵ء میں فوج میں ملازم تھا اور ہماری پنجاب رجمنٹ بھمبر سے تبدیل ہو کر سیالکوٹ چھاؤنی آئی۔ ایک یوم کی شب غالباً جمعۃ المبارک کی شب تھی۔ حضور پاک روحانی طور پر بنفسِ نفیس تشریف لائے۔ میں چارپائی پر لیٹا ہوا تھا۔ میں چارپائی سے اُٹھ کر حضور کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ سرکارِ عالی چند قدم جا کر غائب ہو گئے۔ میں صبح اُٹھ کر دربار عالیہ میں حضورِ اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورِ عالی نے مسکراتے ہوئے مجھے ارشاد فرمایا، میجر صاحب رات کو آپ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے عرض کیا، حضور پاکؒ ہاں، آپ سے روحانی ملاقات کا رات کو شرف حاصل ہوا۔
خلیفہ نوازش علی بیان کرتے ہیں کہ میں حضورؒ پاک کا ۱۹۵۵ء میں بیعت ہوا۔ حضور سرکار عالیؒ کو میں نے دُعا کرتے ہوئے دیکھا تو حیران رہ گیا کہ دوسرے پیر تو اس طرح دُعا نہیں کرتے کیونکہ حضور پاکؒ کے دُعا کرنے کا انداز یہ تھا کہ حضور پاکؒ اپنی زبانِ اطہر سے مریض کی بیماری کی طرف مخاطب ہو کر ارشاد فرماتے کہ اے بیماری اللہ تعالےٰ کے حکم سے فنا ہو جا۔ یہ الفاظ کہنے کے بعد حضور پاکؒ مریض کو فرماتے جہاں تکلیف ہے اپنا داہنا ہاتھ اُس جگہ پھیر دو اور اپنا حال بیان کرو۔ مریض یہ کہتا کہ میں بالکل تندرست ہوں۔ خلیفہ نوازش علی حضورؒ کی کرامت یوں بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۷۱ء میں شہزادہ سوم اور شہزادہ چہارم مری میں تشریف فرما تھے۔ رات کو حضورؒ خواب میں آئے اور ارشاد فرمایا کہ میرے دونوں چھوٹے بیٹے مری گئے ہوئے ہیں جنہیں تین صد روپوں کی ضرورت ہے تم صبح اُٹھ کر فیصل آباد سے مری چلے جاؤ اور یہ رقم اُن کو پہنچاؤ۔ میں صبح اُٹھا اور تین صد روپے اور اخراجات راہ کا بندوبست کیا اور چل پڑا۔ میں اپنی ساری زندگی
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں