۴۹ از ۱۰۰
سرکارؒ عالی تشریف لے آئے اور ارشاد فرمایا تحصیلدار صاحب آپ کیوں ملول بیٹھے ہیں۔ اللہ تعاظم و تعالیٰ تو سب کچھ دے سکتا ہے۔ حضورؒ پاک کا اتنا کہنا تھا کہ تحصیلدار صاحب پر کیف و غم طاری ہو گیا۔ تحصیلدار صاحب جب ہوش میں آئے تو انہوں نے بتایا کہ حضورؒ نے مجھے آسمانوں پر جنت کی سیر کرائی ہے۔
مستقیم الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں حضور سرکارؒ عالی کا ۱۹۴۹ء میں بیعت ہوا اس سے قبل میں ملازمت سے بیکاری کی وجہ سے پریشان رہتا تھا۔ میں نے حضور سرکار عالی کی خدمت اقدس میں ایک روز التماس کی۔ حضور پاک نے ارشاد فرمایا۔ تم جا کر اپنی ملازمت کی درخواست دے دو۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ بھرتی کے روز حضورؒ پاک کو میں نے بنفس نفیس اپنے قریب دیکھا کہ جس نے بھرتی کرنا تھا اُسے فرما رہے ہیں کہ اس شخص کو ضرور بھرتی کرو۔ بھرتی کرنے والے نے سب سے قبل میری درخواست کو پڑھ کر ملازم رکھ لیا۔ اس کے بعد حضورؒ پاک نے میری طرف دیکھا اور تبسم فرمایا اور خود غائب ہو گئے۔
خلیفہ ولی محمّد صاحب گلالی پور، فیصل آباد بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۴۹ء میں صبح کی نماز پڑھ کر میں فارغ ہوا تو حضورؒ سرکار عالی بنفس نفیس میرے پاس پہنچے اور ارشاد فرمایا کہ ایک گاؤ تکیہ تیار کر کے لے کر آؤ۔ میں نے ایک گاؤ تکیہ تیار کیا اور دربار پاک میں حضور اقدس کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا۔ آپ اپنی مسند مبارک پر جلوہ افروز تھے۔ آپ کے پاس بابا اسمٰعیل بیٹھے ہوئے تھے (جو آپ کے خادم تھے اور ہر وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے)۔ حضور پاک نے مجھے دیکھ کر اسمٰعیل کو کہا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ۔ بابا اسمٰعیل مجھے لے کر حضور پاک کے پاس پہنچے تو حضور پاک نے ارشاد فرمایا۔ اسمٰعیل! یہ گاؤ تکیہ خلیفہ صاحب لے کر آئے ہیں۔ میں نے تو اس بیٹھک میں صرف تم سے تذکرہ کیا تھا۔ ولی محمّد صاحب کہتے ہیں کہ حضور پاک
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں