۳۶ از ۱۰۰
سردار محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ سنہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہندو پاکستان کے بعد میں اُس قافلے سے بچھڑ گیا جو پاکستان آ رہا تھا۔ مجھے سکھوں نے اپنے نرغے میں لے لیا اور مجھے مارنا چاہتے تھے۔ میں نے اس وقت اپنے مرشد کو یاد کیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنی آنکھیں کھولیں تو حیران رہ گیا کہ میں وہاں اکیلا کھڑا تھا یا تو سکھّوں کے جتھے کو زمین کھا گئی تھی یا مجھے کسی غیبی طاقت نے وہاں سے نکال لیا تھا۔ میرا بھائی دربار شریف حضور عالیؒ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہُوا اور عرض کی کہ سردار محمد شہید ہو گیا ہے کیونکہ سکھّوں نے اُسے گھیر لیا تھا اور وُہ ہمارے قافلے سے جُدا ہو گیا تھا۔ حضور پاکؒ نے سردار محمد صاحب کے بھائی علی محمد صاحب کو فرمایا کہ تمہارا بھائی زندہ سلامت ہے آپ یہاں آج رُک جائیں کل تمہارا بھائی یہاں آ جائے گا دوسرے یوم سردار محمد صاحب ایک بُنیان اور نیکر پہنے دربار میں پہنچ گئے۔
محمد طفیل صاحب بیان کرتے ہیں کہ سنہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند و پاکستان کی وجہ سے ہندو مسلم فسادات ہُوئے جس میں میرے گاؤں جوڑیاں میں بھی سکھّوں کے ایک جتھّہ نے حملہ کر دیا اور سکھّوں نے گولی چلا دی میں بھی گولی چلنے کے دوران موجود تھا ایک گولی میرے کان کے قریب سے گزری اور میں بچ گیا میرے والد صاحب حضور سرکار عالیؒ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہُوئے اور عرض کی محمد طفیل گولی چلنے کے دوران وہیں تھا آپ اُسے بچا لیں حضور پاکؒ نے ارشاد فرمایا میرے اللہ تعالیٰ نے تیرے لڑکے کو بچا لیا ہے گولی اُس کے کان کے قریب سے گزری ضرور تھی۔ لیکن وُہ بچ گیا ہے۔
گل رحمان صاحب لنڈی کوتل والے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور پاکؒ سے بیعت کا شرف سنہ ۱۹۴۶ء میں حاصل کیا۔ مجھے عبدالرحیم صاحب نے بتایا کہ لنڈی کوتل کے باہر سیالکوٹ کے پیر صاحب نے پانی کے مٹکے رکھوائے ہُوئے ہیں۔ جو مریض ان سے پانی پیتا ہے۔ صحت یاب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ میرے دِل میں بھی پیر صاحب کی زیارت کی
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں