۳۷ از ۱۰۰
خواہش پیدا ہُوئی اور عبدالرحیم صاحب کی معیت میں دربار شریف حاضر ہُوا اور سرکار عالیؒ کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔
حضرت پیرانِ پیر دستگیر کے عُرس مُبارک کے موقع پر مجھے ایک واقع پیش آیا کہ حضور پاک بیٹھک میں جلوہ افروز تھے عرس کی وجہ سے بیٹھک بھری پڑی تھی میں بھی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ تقریباً پچاس آدمی مزید آ گئے۔ حضور پاک نے فرمایا „اے بیٹھک اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھل جا،، تاکہ یہ پچاس آدمی بھی اندر آ جائیں۔ کیونکہ باہر موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔ حضور کے حکم سے بیٹھک کی دیوار اپنی جگہ سے سرکی۔ میں نے دیوار سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اس لیے گرنے لگا۔ یہ سرکار عالی کی کرامت ہے کہ بیٹھک کشادہ ہو گئی اور تمام آدمی بیٹھ گئے۔
خلیفہ جمعہ خان صاحب بیان کرتے ہیں۔ کہ میں حضور سرکار عالیؒ سے سنہ ۱۹۴۹ء میں بیعت ہو چکا تھا۔ میری خواہش تھی کہ اپنے لڑکوں کے لیے مکان تعمیر کراؤں۔ لیکن میرے پاس سات سو روپے سے ایک پیسہ بھی زائد نہ تھا۔ لیکن مکان کا تخمینہ ۲۵ ہزار روپے سے کم نہ تھا۔ ایک یوم صبح کی نماز سے فارغ ہُوا تو میں نے اپنے مشاہدہ میں حضور سرکار عالیؒ کو یہ ارشاد فرماتے ہُوئے دیکھا۔ کہ جمعہ خان تمہارا مکان ضرور بنے گا حضور سرکار عالیؒ کا ارشاد درست ثابت ہُوا۔ میرے بچوں کا مکان بن گیا۔ میں اِسے حضور سرکارِ عالیؒ کی کرامت سمجھتا ہُوں۔
سنہ ۱۹۴۳ء کا واقعہ ہے محمد سعید قریشی بیان کرتے ہیں کہ میری شادی کو تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ میری بیوی سخت بیمار ہو گئی اور بے حد کمزور ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے تپدق تشخیص کیا۔ لیکن وُہ بضد تھی کہ کسی طرح مجھے دربارِ اقدس لے چلو۔ چنانچہ میں اسے لیکر سرکارِ عالیؒ کی خدمت اقدس میں حاضر ہُوا۔ سرکارِ عالیؒ نے دُعا فرمائی۔ اور کہا کہ جاؤ بی بی اب یہ تکلیف تمہیں زندگی بھر کبھی نہ ہو گی واپسی پر بارش شروع ہو گئی۔ جس میں بھیگنا تپدق کے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں