۳۵ از ۱۰۰
مریض کی آنکھیں آن واحد میں شفایاب ہو گئیں۔ تارڑ صاحب نے حضور کی بیعت کر لی اور گاؤں پہنچ کر یہ کرامت مجھ سے بیان کی۔ میرے دِل میں حضور پاک کی زیارت کا شوق پیدا ہوا۔ جب دوسری مرتبہ تارڑ صاحب دربار شریف آنے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ میرا بھیڑوں کا گلہ تھا جس میں سے کئی بھیڑیں مر گئیں تھیں۔ میں نے سرکار عالی سے عرض کی، حضور پاک نے دُعا فرمائی۔ دُعا کے بعد پھر کبھی کوئی بھیڑ نقصان نہ ہوئی۔ یہ بھی حضور سرکارِ عالی کی کرامت ہے۔
خلیفہ سیّد محمد حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں جموں و کشمیر کا رہنے والا تھا۔ سنہ ۱۹۴۷ء کے آغاز میں کچھ لوگ دربار شریف منڈیر مُعلی سے حضور پاک کی زیارت کر کے مجھ سے کشمیر میں ملے۔ انہوں نے میرے ساتھ حضور پاک کا ذکر کیا۔ چنانچہ میرے دِل میں بھی حضور پاک کی زیارت کا اشتیاق پیدا ہوا اور میں حضور پاک کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں دربار شریف میں برگد کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ اُس وقت حضور پاک اپنے کمرے میں مسند شریف پر جلوہ افروز ہوئے اور حضور پاک نے آواز دی۔ „محمد شاہ۔ محمد شاہ،، میں حضور کی آواز سُن کر چونک اُٹھا۔ حضور پاک نے پھر ارشاد فرمایا۔ „محمد شاہ۔ محمد شاہ،، میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا „شاہ صاحب بیٹھو،، میں بیٹھ گیا۔ آپ نے اِرشاد فرمایا „شاہ صاحب! آپ کشمیر سے آتے ہیں۔ وہاں نعمت اللہ شاہ کا روضہ ہے۔ جن کے گنبد پر ایک چاندی کا کڑا چڑھا ہوا ہے۔ جن پر ان کی پیش گوئیاں کندہ ہیں۔ ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک معمر نابینا شخص حضور کی خدمت میں حاضر ہُوا اور اُس نے روتے ہوئے التماس کی کہ حضور دُعا فرمائیں میں بینا ہو جاؤں۔ حضور پاک نے دُعا فرمائی اور وہ شخص بینا ہو گیا۔ حضور سرکار عالی کی یہ کرامت دیکھ کر میں بیعت ہو گیا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں