۳۴ از ۱۰۰
میں بی اے کا طالب علم تھا۔ میں قریب امتحان حضورِ عالی کی خدمت اقدس میں حاضر ہُوا اور عرض کی کہ بی اے کی کتابوں کو نہ پڑھ کر اچھے نمبروں میں پاس ہونا چاہتا ہوں حضور پاک دُعا فرمائیں۔ عالی سرکار نے ارشاد فرمایا „جیسا تم کہتے ہو۔ ویسا ہی ہو گا۔،،
چنانچہ میں نے بی اے کے امتحان میں اچھے نمبر حاصل کیے۔
یہ سرکار پاک کی کرامت تھی۔
چوہدری مقبول احمد صاحب لاہور بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور سرکار عالی کے دستِ مبارک پر سنہ ۱۹۴۶ء کو بیعت کی میری جائیداد میں شہر لاہور کے قریب زمین بھی تھی جس پر میرے خاندان کے کچھ افراد ناجائز طور پر قابض ہو گئے تھے۔ خاندان کے ایک معمر شخص نے میرے ساتھ وعدہ کیا کہ میں تجھے تیری جائیداد واپس لے کر دوں گا۔ لیکن مُعمر شخص بہت سخت علیل ہو گیا۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہ معمر شخص انتقال کر گیا تو مجھے جائیداد نہ ملے گی۔ میں نے اپنی روداد حضور سرکارِ عالی کو پیش کی۔ حضور عالی کی کرامت سے معمر شخص میرے حق میں اپنے خاندان کو فیصلہ سُنا کر دوسرے یوم انتقال کر گیا۔ اگر معمر شخص ایک روز قبل میرے حق میں فیصلہ اپنے خاندان کو نہ سُناتا تو میں اِس جائیداد سے محروم ہو جاتا۔
رحمت خان کوٹ بختاور تحصیل حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ کے بیان کرتے ہیں کہ سنہ ۱۹۵۶ء میں پیر محمد ولد محمد یار خان صاحب قوم تارڑ کی آنکھوں میں کُکرے تھے اور ہر وقت آنکھوں سے پانی بہتا رہتا تھا۔ کئی ڈاکٹروں، حکیموں سے علاج کرایا۔ لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ چنانچہ کسی شخص کی وساطت سے وہ دربارِ عالی منڈیر مُعلی حضور پاک کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ حضور سرکار عالی نے دُعا فرمائی اور
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں