۳۳ از ۱۰۰
راقم الحروف کتاب ہٰذا کا حقیقی بھتیجا۔ سیّد مبارک علی شاہ حضور سرکارِ عالی کی کرامت یوں بیان کرتے ہیں کہ سنہ ۱۹۶۲ء میں بی اے کی تعلیم کے لئے میں کالج سیالکوٹ جایا کرتا تھا۔ میرے ہمراہ پھوپھی زاد بھائی سیّد احسان علی شاہ صاحب بھی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کالج جایا کرتے تھے۔ ایک یوم بذریعہ موٹر بس ہم سیالکوٹ جا رہے تھے کہ راستہ میں ہماری موٹر بس کا ایک تیز رفتار ٹرک سے زبردست تصادم ہوا جس سے ہماری بس میں زلزلہ سا آگیا۔ میری زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے „بابا جی بچانا،، موٹر بس چکر کھاتی ہوئی ایک گڑھے میں گر گئی۔ تمام کے تمام مسافر بخیر و عافیت رہے۔ یہ میرے دادا جان کی کرامت تھی۔
حضور سرکارِ عالی کے خلیفہ سوم سیّد میر حسرت علی شاہ صاحب الٰہ آباد کے بیان کرتے ہیں کہ میرے دوست عبدالمجید وکیل صاحب نے مجھے سرکارِ پاک کی کرامت سنائی کہ وہ مسلم لا کا امتحان دینا چاہتے تھے۔ لیکن تیاری امتحان دینے کی نہ تھی۔ وکیل صاحب حضور عالی کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور التماس کی کہ حضور پاک دُعا فرمائیں کہ میں مسلم لا کے امتحان میں اول آؤں۔ حضور عالی نے فرمایا „کہ آپ رب العزت کے حکم سے امتحان میں اول آئیں گے۔،، چنانچہ وکیل صاحب نے امتحان دیا اور حضور پاک کے ارشاد کے مطابق اول آئے۔ خلیفہ صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے سرکار عالی کی وکیل صاحب سے یہ کرامت سُنی تو میرے دل میں سرکارِ عالی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ اور میں وکیل صاحب کے توسل سے حضورِ عالی کے پاس پہنچا اور بیعت ہو گیا۔
حضور سرکارِ عالی کے مُرید ملک عبدالوحید صاحب ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ کے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور پاک کی بیعت سنہ ۱۹۴۴ء میں کی جبکہ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں