۳۲ از ۱۰۰
راقم کتاب ہٰذا کے برادرِ کلاں حضرت سیّد اقبال احمد حسین شاہ صاحب نے چشم دید مشاہدہ مجھے اس طرح بیان کیا کہ سنہ ۱۹۵۲ء کا واقعہ ہے۔ ایک شب پچھلے پہر میں کسی کام سے اپنے کمرے سے باہر آیا تو دیکھا حضور سرکارِ عالی اپنی عبادت گاہ پر لیٹے ہوئے ہیں اور ان کا چہرہ اقدس منوّر اور اس قدر روشن ہے کہ اس نور کی تجلیات میں حضور پاک کی ریش مبارک بھی دکھائی نہ دیتی تھی۔ میں نے شہزادہ اول صاحب کو بلا کر دیدار کروایا پھر اپنے ماموں حضرت سیّد حیدر علی شاہ صاحب کو بلا کر زیارت کروائی۔
اسی طرح خلیفہ چوہدری شیر محمدؐ نے اپنا چشم دید مشاہدہ بیان کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ سنہ ۱۹۶۰ء میں ایک روز حضور سرکارِ عالی نے دربار شریف میں موجود مریدین کو شرفِ زیارت اس طرح بخشا کہ حضور پاک اپنے حجرۂ مبارک میں دعا کے کمرے کی جانب رُخ کیے ہوئے پلنگ پر تشریف فرما تھے۔ ہم تقریباً ایک درجن مریدین نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا کہ حضور سرکارِ عالی کا چہرۂ اقدس اس قدر منوّر تھا کہ نور کی تجلیات سامنے والی دیوار پر پڑ رہی تھیں اور ان تجلیات کی وجہ سے حضور پاک کی ریش مبارک دکھائی نہ دیتی تھی۔ کافی دیر تک زیارت کرتے رہے اور پھر اپنی اس خوش بختی پر سجدۂ شکر بجا لائے
خلیفہ شیر مُحمدؐ نے اپنا ایک ذاتی مشاہدہ اس طرح بیان کیا کہ سنہ ۱۹۵۰ء کی ایک محفلِ شب میں حضور سرکارِ عالی قدس سرہ العزیز نے مجھے اپنے قریب بلا کر فرمایا کہ میں آپ کے چہرے کی طرف دیکھوں میری گنہگار آنکھوں نے ظاہر دیکھا کہ حضور اقدس عالی سرکار کا چہرۂ اقدس چودھویں رات کے چاند سے کئی گنا زیادہ منوّر ہے۔ چہرۂ مبارک کے نور کی تجلیّات کی وجہ سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ میں اپنی اس خوش بختی پر سجدۂ شکر بجا لایا۔ اسی طرح ان ایام میں اندرونِ خانہ بیشتر مریدہ خواتین اکثر رات کو ایسی نوری تجلیات کا دیدار کرتی رہتی تھیں۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں