۳۱ از ۱۰۰
آج رحمت جوش پر تھی۔ ہر کوئی اس سے سیراب ہو رہا تھا۔ سب اپنی اپنی مرادیں پا رہے تھے۔ علم کے طلب گار عالم بن رہے تھے۔ دولت کے پجاری غنی ہو رہے تھے۔ عاقبت اندیش اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے حاضر ہوتے تھے۔ سب جھولیاں بھر بھر کے جا رہے تھے کہ اسی اثنا میں آواز آئی ”سبزی لے لو سبزی۔ تازہ سبزی“۔
سرکارِ عالی عاصی نواز قبلہ محبوب ذات باہر تشریف لے گئے۔ اور سبزی والے سے فرمایا ”بھائی سبزی سستی دے دو اور جنت لے لو“ سبزی والا کوئی ہوشیار آدمی نکلا۔ اُس نے موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور کہنے لگا حضور سب مال آپ کا ہی ہے۔ آپ کا ہی ہم سب کھاتے ہیں۔ آپ اسے قبول کریں۔ حضور نے خلیفہ بابا اسمٰعیل کو کہا کہ ”بابا یہ سبزی اندر لے جاؤ“ خلیفہ بابا صاحب سبزی اندر لے گئے۔
چونکہ آپ سخاوت کے اتم درجے پر فائز تھے۔ لہٰذا یہ شان سخاوت کے خلاف تھا چاہے آپ نے اس کی قیمت اتنی بڑی ادا کردی۔ یعنی جنت لیکن ظاہری طور پہ بھی آپ اس کی قیمت ادا کرنا چاہتے تھے۔ آپ نے تمام سبزی کی قیمت اور اس سبزی فروش کی مزدوری کی تمام رقم اُسے دیتے ہوئے فرمایا۔
”بھائی سبزی فروش یہ تمہاری مزدوری اور سبزی کی قیمت اور ساتھ ہی تمہاری جنت کی بشارت“ یہ آپ کی سخاوت کا عالم تھا۔ کہ راہ گزر کو بھی بن مانگے دنیا میں عبادت کا انعام دے دیتے۔ اسی لئے آپ کو ایک شاعر نے کہا
تمام گناہ جرم بھی بخشوا دیئے اور دیا بھی بن مانگے۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں