۳۰ از ۱۰۰
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
سرکارِ عالیؒ کے چہرہ انور کی خود اعتمادی انتخابِ ایزدی کی داد دے رہی ہے۔ مریدین ہیں کہ فخر سے سر بلند کئے ہوئے تشکر کے سمندر میں مستغرق ہیں ہر طرف نور کی فوار ہے۔ ذاتِ الٰہی جوش میں ہے اور مخلوقِ خداوندی کو فیضانِ رحمت سے سیراب کر رہی ہے۔ گھٹائیں اُمڈی ہوئی ہیں اور فضائیں مست ہیں غرضیکہ ایسا عالم ہے جسے عالمین کا کوئی عالم بیان نہیں کر سکتا۔
سرکارِ عالی محبوبیت کا بادہ اوڑھے اس محبت سے محوِ گفتگوئے ذات ہیں۔ جیسے۔
یہ تھی تقریب جشن محبوبِ ذات یعنی وہ معراجِ نور، جس سے فرشتے دم بخود اور فرشی محوِ نظارہ تھے۔ اِس طرح حضور سرکارِ عالی کو غوثیت کے بعد محبوبیت عطا ہوئی۔
(صاحبزادہ سیّد امجد علی قادری)
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں