۲۹ از ۱۰۰
کہے۔ کہ ہے کوئی انسانوں میں اعتراض کرنیوالا۔ یہ تاج ہم نے رکھا ہے۔ چونکہ یہ مردِ قلندر وقت کے غوث تھے۔ جنہوں نے اپنی جگہ پر سرکارِ عالی کو اللہ کے حکم سے وقت کا غوث بنایا۔ کیونکہ مردِ قلندر کا وقت اس دنیا سے جانے کا آ گیا تھا۔
حضور سرکارِ عالی کے خلفا میں سے ایک خلیفہ شفیق احمد صاحب گورکھپوری جو کراچی میں مقیم ہیں انہیں چار افراد ولایت باطنی سے ملے اور انہوں نے خلیفہ صاحب کو یہ خوشخبری سنائی کہ ان کے پیر و مرشد درجہ رفیعہ محبوبِ ذات پر فائز ہونے والے ہیں چنانچہ اس نوید مسرت کی تکمیل ۲۵ جولائی ۱۹۴۸ء بمطابق ۳ ذیقعدہ ۱۳۶۷ھ میں ہوئی۔
۱۷ اگست ۱۹۴۸ء کی بات ہے کہ حضور ذوالاحتشام کے تمام مریدین جہاں جہاں جس جس شہر میں آباد تھے وہاں وہاں کے مستوں (جو ان دنوں مامور برامر ولایت تھے) نے یہ نوید روح پرور سنائی۔ کوئی گوشہ فلک ایسا نہ تھا جہاں یہ آواز نہ سنائی دی ہو کہ آپ بڑے خوش نصیب ہیں آپ کے ہادی و رہبر درجہ محبوبیت پر فائز ہونے والے ہیں۔ چنانچہ لنڈا بازار لاہور میں ایک ڈیرا جو زیر نگرانی خلیفہ سیّد ظفریاب حسین صاحب مرحوم و مغفور اور خلیفہ بابا عبدالرشید صاحب مرکز ذکرِ سرکارِ معصوم تھا۔ وہاں ایک شخص مست باغ علی جو باطنی طور پر لاہور کا گورنر تھا نے تمام اہلِ ڈیرا کو یہ مژدہ جاں پرور سنایا کہ آپ کے پیر و مرشد ایک نورِ مجرد ہیں۔ چراغ لے کر دو عالم میں بھی ڈھونڈنے سے ایسا نورِ مجرد نہ ملیگا (سیّد ذوالفقار علی شاہ صاحب) اس قسم کی خوشخبریاں سرکارِ عالی کے تمام مریدین (جو کہ تمام برصغیر ہند و پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں) کو ملیں اور یہ سب لوگ مقررہ دن اپنے آپ ہی دربار شریف پہنچ گئے۔ اب بشریت اور نور کا امتزاج دیکھئے ایک طرف سرکارِ عالی مریدین سے استفسار کر رہے ہیں کہ آپ کو کس نے اطلاع دی مگر دوسری طرف لب ہائے لالہ پر تقدس آمیز اور معنی خیز تبسم ہے۔ یہ وہ تبسم تھا۔ جس کے متعلق
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں