۸ از ۱۰
مسلم ۔ ابن ماجہ۔
" آپﷺ نے طواف کرتے ہوئے حجر اسود کو محبت سے چوما۔ غلاموں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپﷺ نے حجر اسود کو کیوں چوما فرمایا میرے مبعوث ہونے سے پہلے مجھ پر سلام پڑھتا تھا۔"
حبیب خداﷺ کو درخت کیا پتھر کیا چرند پرند اور پہاڑ بھی سلام کرتے ہیں مندرجہ ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
" حضرت یعلی ابن مرہ ثقفیؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم آپﷺ کی معیت میں سفر کر رہے تھے کہ آپﷺ نے ایک جگہ قیام فرمایا۔ آپﷺ خواب استراحت میں تھے کہ ہم لوگوں نے دیکھا ایک درخت زمین کو چیرتا پھاڑتا جھومتا جھامتا آیا اور آپﷺ کو اپنے سایہ میں ڈھانپ لیا۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد اپنی جگہ پر واپس لوٹ گیا۔ آپﷺ کے بیدار ہونے پر ہم نے آپﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے کی اجازت طلب کی اور اسے اجازت مل گئی۔" (احمد ۔ طبرانی ۔ بیہقی)
" حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں آپﷺ کے ساتھ مکہ معظمہ سے کسی مقام پر گیا میں نے دیکھا کہ راستے میں جو بھی درخت پتھر اور پہاڑ آیا ہر ایک اللہ کے حبیبﷺ کو سلام عرض کر رہا تھا۔ (مشکواۃ)۔
ہمارے پیارے نبیﷺ نے قبرستان میں مرنے والے لوگوں کو بھی سلام کیا مندرجہ ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
بوداؤد ۔ جلد دوم ۔ صفحہ ۲۶۴ ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ۔
آپﷺ قبرستان تشریف لائے تو آپﷺ نے فرمایا اے مومنین کے اہل خانہ تم لوگوں پر سلام ہو اور ہم لوگ ان شاء اللہ تعالیٰ تم لوگوں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں