۷ از ۱۰
کیا معاملہ ہی کچھ اور ہی ہوگا یہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا ہے۔
بخاری شریف جلد دوم صفحہ ۵۵۴ حضرت ابوطلحہ انصاریؓ سے روایت:
" آپﷺ بدر کے دن قریش کے چوبیس سرداروں کی لاشوں کو بدر کے کنوؤں میں سے ایک گندے ناپاک کرنے والے کنویں میں پھینک دینے کا حکم دیا اور آپ کا قاعدہ یہ تھا جب کسی قوم پر غالب آتے تو تین راتیں انہی کے مقام میں تیر کرتے (گذارتے) بدر میں بھی تین دن رہے تیسرے دن آپﷺ نے حکم دیا اونٹنی پر زین کسا گیا پھر آپﷺ چلے۔ آپﷺ کے ساتھ اصحابؓ بھی چلے وہ سمجھے شاید آپ کسی کام کے لیئے جا رہے ہیں خیر آپﷺ چلتے چلتے اس کنویں کے منڈیر پر کھڑے ہوئے اور قریش کے کافروں کو نام بنام آواز دینے لگے ان کا نام لیتے اور ان کے باپوں کا فرماتے فلانے فلانے کے بیٹے، فلانے فلانے کے بیٹے اب تم کو یہ اچھا لگتا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسولﷺ کا فرمانا مان لیتے، ہم سے تو جس ثواب اور اجر کا ہمارے مالک نے وعدہ کیا تھا وہ ہم نے پا لیا تم سے جس عذاب کا پروردگار نے وعدہ کیا تھا تم نے بھی وہ پایا یا نہیں ۔ حضرت ابوطلحہؓ نے فرمایا یہ سن کر حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسولﷺ اللہ آپﷺ ایسی لاشوں سے بات کرتے ہیں جن میں جان نہیں (بھلا وہ کیا سنیں گے) آپﷺ نے فرمایا قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جو باتیں کر رہا ہوں تم ان کو ان سے زیادہ نہیں سنتے (انہی کے برابر سنتے ہو)۔"
اسی لیے خدا کے واسطے اللہ کے اس حکم کو سمجھیں اس پر عمل کریں اور محتاط بھی رہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے نافرمانوں میں شمار ہو جائے ایک جلیل قدر فرشتہ جس فرشتہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت اختیار دے رکھا تھا جب اُسنے اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے کے حکم سے انکار کر دیا تو وہ جلیل قدر فرشتہ حکم عدولی کی وجہ سے شیطان کے درجے پر چلا گیا اسی لیے سلام کے حکم الٰہی کے نہ ماننے پر کہیں اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے۔ سلام کی اہمیت کا اندازہ مندرجہ ذیل حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے اس حدیث کے مطابق ہمارے پیارے نبیﷺ نے حجر اسود کو اس لیے چوما تھا کیوں کہ حجر اسود ہمارے پیارے نبیﷺ پر سلام پڑھتا تھا تو پھر سلام بھیجنے والا کیسے مشرک ہو سکتا ہے۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں