۹ از ۱۰
ہر نماز میں ہم مسلمان ہمارے پیارے نبیﷺ کو سلام کرتے ہیں التحیات ہی ہے جسمیں ہم سب مسلمان ہمارے پیارے نبیﷺ کو مخاطب ہو کر یہ کہتے ہیں کہ اے نبیﷺ آپﷺ پر سلام ہو جب کہ نماز خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے لیکن نماز میں ہم سب مسلمان آپﷺ کو سلام کرتے ہیں تو پھر نماز کے علاوہ اور اگر ہم سب جب پیارے نبیﷺ کو سلام کرتے ہیں تو کچھ مسلمان بھائی یہ کیوں کہتے ہیں کہ یہ شرک یا بدعت ہے اس کے علاوہ ہم سب مسلمان التحیات میں صالحین کو بھی سلام بھیجتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سلام کا عمل اتنا اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو نماز میں درود ابراہیمی سے پہلے جگہ دی ہے اور تمام مسلمان ہر نماز میں پڑھتے ہیں اس سے سلام کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
مندرجہ ذیل آیت قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے جب کسی متقی کی روح قبض کرتے ہیں تو سلام کرتے ہیں تو ہمارے پیارے نبیﷺ کو ہم کیسے سلام نہیں بھیج سکتے ہیں۔
سورہ النحل آیت ۳۴۔
" ایسی جزا دیتا ہے اللہ ان متقی لوگوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب فرشتے قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں السلام علیکم (سلام کا اشارہ دے دیا کہ موت کے بعد تمہاری ہر طرح سے سلامتی ہے)۔"
کچھ مسلمان درود ابراہیمی کو ہی صرف درود مانتے ہیں لیکن اور بہت سارے دیگر درود کو درود ہی نہیں مانتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ درود ابراہیمی ہی سب سے بڑا درود ہے لیکن یہ کیوں نہیں سمجھتے ہیں کہ درود ایک دعا ہے اور یہ دعا ہمارے پیارے نبیﷺ پر رحمت اور برکتوں کے لیے کی جاتی ہے باقی درود بھی آپﷺ کے لیے دعا ہوتی ہے دعا تو مسلمان مختلف طریقہ اور الفاظ میں بھی کر سکتا ہے اس میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے جیسے مندرجہ ذیل درود تنجینا کا اردو ترجمہ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی ایک دعا ہے اس دعا میں ہمارے پیارے نبیﷺ پر درود بھیج
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں