۶ از ۱۰
نسائی۔
" ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں آپﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ میرے وصال کے بعد میرے امتی کی طرف سے مجھ پر درود و سلام بھیجا جائے گا فرشتے اُسے بارگاہ رب العزت میں پیش کریں گے اللہ تعالیٰ حکم فرمائے گا اس درود و سلام کو میرے محبوب کی قبر کی طرف لے جاؤ اور اسے ان کے سامنے پیش کرو تا کہ وہ درود و سلام پڑھنے والے کے لیے مغفرت کریں اور درود و سلام کے ذریعے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔"
مشکواۃ ۔ احمد ۔ بیہقی ۔ ابن ماجہ ۔
" حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا بےشک اللہ سبحانہ کے بہت سے فرشتے ایسے ہیں جو زمین پر سیاحی کرتے ہیں (یعنی زمین پر پھرتے رہتے ہیں) اور جو میرا امتی مجھ پر سلام عرض کرتا ہے وہ اس کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔"
مندرجہ ذیل ایک اور حدیث پیش کی جا رہی ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ انبیاء کرام کے اجسام پردہ کرنے کے بعد محفوظ ہوتے ہیں انکے اجسام کو کچھ نہیں ہو سکتا ہے تو ہمارے پیارے نبیﷺ تو تمام انبیاء کے سردار ہیں تو ہمارے پیارے نبیﷺ کے جسم مبارک کتنا محفوظ ہوگا۔
ابوداؤد شریف جلد ۱ صفحہ نمبر ۷۰۷ ۔ حضرت اوس بن اوسؓ سے روایت:۔
" آپﷺ نے فرمایا تم لوگوں کے تمام دنوں میں جمعہ کا دن فضیلت والا ہے اس دن میرے اوپر کثرت سے درود شریف بھیجا کرو کیونکہ تم لوگوں کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ جب آپﷺ قبر میں (نعوذباللہ) گل جائیں گے تو آپﷺ کے سامنے درود کیسے پیش کیا جائے گا۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے (مبارک) اجسام کو زمین پر حرام کر دیا۔"
اور اگر مسلمان مرنے والے لوگ ہوں گے تو انکا کیا معاملہ ہوگا اور ہمارے پیارے نبیﷺ کا تو
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں