۴ از ۱۰
ہمارے پیارے نبیﷺ ایک یہودی کے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور سب کو تلقین بھی کر رہے ہیں کوئی جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ چاہے وہ جنازہ کسی کا بھی ہو لیکن ہمارے پیارے نبیﷺ کو کھڑے ہو کر سلام پڑھتے ہیں تو شرک کا فتوی لگ جاتا ہے خدا کے واسطے ایسی باتوں سے گریز کریں کیوں کہ یہ تمام عمل اولیاء کرام کی تقلید ہے اولیاء کرام ایسا کام نہیں کرتے کہ جس سے اللہ ناراض ہو جائے اگر اللہ کے ناراض ہونے والے کام کوئی ولی اللہ کرتا ہے تو وہ ولی اللہ ہی نہیں ہو سکتا۔ جیسے مندرجہ ذیل واقعہ کے مطابق ایک ولی اللہ سلام نہیں پڑھتے تھے تو ہمارے پیارے نبیﷺ ناراض ہو گئے ۔
قول بدیع ۔
" حضرت ابراہیم نسفیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کی خواب میں زیارت کی تو آپﷺ کو اپنے سے کچھ منقبض (ناخوش۔ناراض) پایا۔ میں نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر آپﷺ کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں تو حدیث پاک کے خدمت گاروں میں ہوں۔ اہل سنت سے ہوں۔ مسافر ہوں حضورﷺ نے تبسم فرمایا جب تو مجھ پر درود شریف بھیجتا ہے تو سلام کیوں نہیں بھیجتا اس کے بعد میرا معمول بن گیا کہ میں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھنے لگا۔"
کچھ لوگ جو سلام پر اعتراض کرتے ہیں وہ شاید اس لیے بھی کرتے ہیں کہ سلام زندوں کے لیے ہوتا ہے اور جو دنیا سے پردہ کرتے ہیں ان کے لیے سلام نہیں جبکہ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کے امتی کے لیے تو اللہ فرما رہا ہے کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں اور ان کو رزق دیتے ہیں تو کیا نعوذباللہ ہمارے پیارے نبیﷺ حیات نہیں ہیں جب کہ آپﷺ رحمت العلمین ہیں عالمین سے مراد تمام عالم چاہے وہ جنات ہوں انسان ہوں ۔ فرشتہ ہوں ۔ چرند پرند ہوں اور یہ تمام عالم جہاں کہیں بھی ہو اور آپﷺ کی پیدائش سے پہلے کے ہوں یا آپﷺ کے پردہ کرنے کے بعد کے ہوں ان سب کے لئے رحمت ہیں اور جب آپﷺ رحمت العلمین ہیں ۔ ہیں تو ہیں تھے نہیں اسلئے آپﷺ حیات ہیں اور اس لئے ہمارے پیارے نبیﷺ کے متعلق ایسا سوچنا اور
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں