۳ از ۱۰
ابوبکر صدیقؓ کی خلافت میں بھی ایسا ہی رہا اور حضرت عمرؓ کی شروع خلافت میں اور امام مالک نے ابن شہابؓ سے روایت کی انہوں نے حضرت عروہ بن زبیرؓ سے انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عبد قاریؓ سے انہوں نے کہا میں رمضان کی ایک رات میں حضرت عمرؓ کے ساتھ مسجد میں گیا دیکھتا کیا ہوں لوگوں کے جدا جدا جھنڈ ہیں (کہیں) ایک شخص اکیلا نماز پڑھ رہا ہے اور کہیں کسی کے پیچھے دس پانچ آدمی ہیں حضرت عمرؓ نے کہا اگر میں ان سب کو ایک ہی قاری کے پیچھے اکٹھا کر دوں تو اچھا ہوگا پھر انہوں نے یہی ٹھان کر ان سب کو حضرت ابی بن کعبؓ کا مقتدی کر دیا بعد اس کے میں ایک رات ان کے ساتھ گیا دیکھا تو سب اپنے قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ بدعت تو اچھی ہوئی اور رات کا وہ حصہ جس میں تم سوتے رہتے ہو یعنی اخیر رات وہ اس حصے سے افضل ہے جس میں نماز پڑھتے ہو اور لوگ شروع ہی رات میں تراویح پڑھ لیتے۔"
اچھی بدعت وہی نکال سکتا ہے جس کو کشف ہوا ہو یا امیر المومنین ہو یا برحق امام ہو اگر ان ہستیوں نے کوئی بدعت نکالی ہے تو وہ اچھی بدعت ہوگی کیوں کہ یہ تمام لوگ کشف یا بشارت والے یعنی انعام والے لوگ ہیں ان ہستیوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس بدعت سے اللہ تعالیٰ خوش یا راضی ہے کہ نہیں لیکن برعکس اسکے کہ اگر کوئی شخص جس کو کشف یا بشارت نہ ہوتا ہو اور کوئی نئی بدعت نکالتا ہو تو وہ شخص حدیث مبارک کے مطابق گناہ گار ہوگا ۔ کھڑے ہونے پر اعتراض کچھ مسلمان بھائیوں کو ہوتا ہے لیکن یہاں دیکھیں کہ مندرجہ ذیل حدیث کے مطابق ہمارے پیارے نبیﷺ ایک یہودی کے جنازے پر کھڑے ہو گئے ۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں
بخاری شریف جلد اول صفحہ ۵۷۰ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت:
"ایک بار ایسا ہوا کہ ایک یہودی کا جنازہ ہمارے سامنے سے نکلا آپﷺ اس کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے ہم بھی کھڑے ہو گئے اور ہم نے کہا یا رسول اللہ یہ یہودی کا جنازہ ہے آپﷺ نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھو کھڑے ہو جایا کرو۔"
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔