۹ از ۱۲
یہی خلیفہ یہ بھی کہتے تھے کہ میں نے سنا تھا کہ سرکار محبوبِ ذات فرماتے تھے میرے چاروں بیٹے نورِ نظر لخت جگر ہیں اور میری عمر بھر کی کمائی ہیں ایک اللہ کے محبوب اولیا ء اللہ کی سارے عمر کی کمائی ان چاروں بیٹوں میں موجود ہے اور اِنہی کے زریعہ حضرت محبوبِذات کا فیض جاری ساری ہے چاروں ولی اللہ ہیں۔آپؒ ۸ فروری ۱۹۶۱ ۲۰ شعبان کو دنیا سے پردہ کرگئے۔ آپؒ کا مزار منڈہیر شریف سید اں سیالکوٹ میں ہے اور ہر سال انکا عرس منایا جاتا ہے اور لاکھوں آفراد روحانیات سے فیض یا ب ہوتے ہیں۔دنیا کے ہر حصہ میں اِس دربار سے مسلمان وابسطہ ہیں اور مرید ہیں۔
حضرت غوث پاکؒ کے پاس سے بے حساب کرامتیں جاری ہوئی اتنی کرامتیں کسی بھی ولی اللہ سے نہیں ہوئی ہیں انکے بعد بے حساب کرامتیں جو جاری ہوئی ہیں وہ ابھی تک صرف اللہ کے محبوب حضرت محبوب ذاتؒ سے جاری ہوئی ہیں۔ انکی مشاہدات اور کرامتیں جاننے کے لئے ایک کتاب مراۃ الراحمان میں موجود ہے یہ کتاب انکے بیٹے سید افتخار احمد حسین گیلانیؒ نے لکھی ہے چند مشاہدات اور کرامتیں یہاں بتائی جاری ہیں۔
۱۔ آ پؒ کے فرزند سید اقبال احمد حسین گیلانی فرماتے ہیں کہ ایک شب میں اپنے کمرہ سے باہر آیا تو دیکھا آپؒ اپنی عبادت گاہ میں لیٹے ہوئے ہیں اور ان کا چہرہ اقدس منور اور اس طرح روشن ہے کہ اس نور کی تجلیات میں آپؒ کی ریش مبارک بھی دکھائی نہیں دیتی۔میں نے اپنے بڑے بھائی حضرت اول پاکؒ اور پھر آپؒ کے ماموں حضرت سید حیدر علی شاہؒصاحب کو بلا کر زیارت کرائی۔اسی طرح آپؒ کے خلیفہ چوہدری شیر محمد ۱۹۶۰ میں درجنوں مریدوں نے یہ منظر کھلی آنکھوں سے دیکھا آپؒ کے چہرہ مبارک سے نور کی تجلیاں سامنے والی دیوار پر پڑ رہی تھی نور کی تجلیات کی وجہ سےآپؒ کی ریش مبارک نظر نہیں آرہی تھی کافی دیر تک زیارت کی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں