۱۰ از ۱۲
۲۔آپؒ کے بڑے بیٹے سید افضال احمد حسین گیلانیؒ ایک واقعہ بیان کیا کہ حضرت محبوب ذاتؒ ۱۹۳۶ میں انبالہ شریف میں قیام پذیر تھے ایک عورت (جس پر جن کا سایہ تھا) کے رشتہ دار اِس کو لے کر حضرت محبوب ذاتؒ کے پاس لے کر آئے۔آپؒ نے نگاہ ڈالی تو آسیب زدہ عورت زدہ عورت کو آگ لگ گئی۔اس کے رشتہ دار وں نے عورت کو جلتے دیکھ کر شور مچا دیا۔آپؒ انکو خاموش رہنا کا حکم دیا اور فرمایا کہ جن جل رہا ہے۔ تمہاری عورت کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ تھوڑی دیر بعد آگ ختم ہوئی تو لڑکی بالکل صحیح و سالم تھی۔ آپؒ اس واقعہ کے بعد مسجد میں جہر کی نماز ادا کرنے چلے گے نماز سے فارغ ہوئے تو آپؒ نے دیکھا جنات نے مسجد کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ہمارے پیارے نبی ﷺ کا دربار لگا ہوا ہے اور حضر ت سلیمانؑ میرے جن جلانے کی شکایت کررہے ہیںحضور ﷺ نے فرمایا اِن کی شکائت سن رہے ہیں۔میں نے عر ض کیا حضور ﷺ ان سے عہد لیں کہ آ پ ﷺ کی اُمت کو تنگ نہیں کریں گے تو میں جنات کو نہیں جلائوں گا چناچہ حضرت سلیمانؑ نے جنات سے عہد لیا۔وہ عہد نامہ آج تک چل رہا ہے جب کوئی آسیب زدہ یا اِس کا کوئی رشتہ دار دربار شریف دُعا کے لئے حاضر ہوتا تو اُس شفاء ہوجاتی۔
۳۔شیخ محمد ابراہیم صاحب دربار شریف میں آکر اپنا ایک قصہ خود سرکار محبوب ذاتؒ کو سنایا کہ میں فوت ہوگیا تھا تو میری بیوی نے مجھے بعد میں بتایا کہ میں اور میرے بچے اور سب رونے لگے اور ہماری چیخ و پکار سے محلے والے بھی اکھٹے ہو گے تھے پھر فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ مجھے فرشتے پکڑ کر لے گئے ایک عالیٰ شان دربار لگا ہوا تھا وہ حضور محبوب ذاتؒکا دربار تھا فرشتے حضور محبوب ذاتؒ کے سامنے رجسٹر رکھتے اور مرنے والے کی منظوری لیتے تھے جب میرا رجسٹر سامنے رکھا تو حضور محبوب ذاتؒ نے فرمایا کہ ابھی انکو رہنے دو ان کو دنیا میں واپس کردو ان کے بچے بہت بے حال ہیں یہ حکم صادر ہوتے ہیں میرے جسم میں روح داخل ہوگی اور میں زندہ ہوگیا مجھے زندہ ہوتے دیکھ کر تمام لوگ ڈر گئے اور باہر کی طرف بھاگے۔میں نے کہا ڈرو نہیں میں زندہ ہوگیا ہوں۔
۴۔محمد یوسف امر تسری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کمرے کی چھت میرے اوپر گر گئی اور میں سینکڑوں من ملبے کے نیچے دب گیا اور بے ہوشی کے عالم میں حضرت محبوب ذاتؒ کو یاد کیا اور التجا کی کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں کمانے والا کوئی نہیں ہے مجھے بچا لیں پھر فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت محبوب ذاتؒفرمارہے ہیں کہ یوسف تم نہیں مرو گے اللہ تعالیٰ نے تمہاری عمر بڑھادی ہے پھر مجھے ملبے سے نکال کر ہسپتال میں چیک کرکے دیکھا کہ یہ زندہ اور صحیح ہیںیعنی بالکل ٹھیک ہیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں