۸ از ۱۲
کراچی میں آپؒ کے ایک خلیفہ شفیق صاحب نے ایک یہ واقعہ کئی مرتبہ سنایا انہوں نے فرمایا ایک دفعہ دربار شریف میں رات کے وقت میں آپؒ کے حجرہ مبارک میں جھانکا تو میں ایک خوبصور ت منظر دیکھا کیا دیکھتا ہو ں کہ آپؒ تشریف فرما ہیں اور اندھیرہ کمرہ آپؒ کے جسم مبارک سے نکلنے والی روشنی سے منور تھا اور آپؒ کے جسم مبارک سے ذات ذات کی آواز بھی آرہی تھی میں یہ منظر دیکھ کر ششدر ہوگیا اور میں نے سوچا کہ آپؒ کے اندر ذاتِ مبارک موجود ہے تبھی آپؒ کے جسم مبارک سے روشنی اور ذات ذات کی آواز آرہی ہے آپؒ ضرور اللہ کے محبو ب ہیں اور آپؒ محبوبِ ذات ہیں۔ یہ واقعہ خلیفہ شفیق صاحب نے دربار شریف میں اُس وقت موجود لوگوں سے ذکر کیا اور محبوب ذاتؒ کی شان سن کر بہت خوش ہوئے۔ کچھ عرصہ کے بعد انہی خلیفہ کے جسم میں خارش شروع ہوگئی اور پھر انہوں نے کہاںکہاںعلاج نہیں کرایا لیکن کوئی شفاء نہیں ہوئی کسی کے کہنے پر ملتان کی مٹی بھی لگائی لیکن شفاء نہیں ہوئی پھر ایک مرید نے آپؒ کے سامنے پیش کیا اور کہا سرکار مہربانی کریں انکے جسم میں کافی عرصہ سے خارش ہورہی ہے لیکن ختم نہیں ہورہی ہے۔آپؒ نے فرمایا انکا ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے کیوںکہ یہ معلوم نہیں کیا کیا کہتے رہتے ہیں تو خلیفہ شفیق صاحب نے کہا میں نے تھوڑی یہ بات کی مجھ سے پہلے علامہ اقبال یہ بات کہ چکے ہیں آپؒ نے فرمایا کیا کہا تھا تو پھر خلیفہ نے کہا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ پنجاب سے ایک مردِ مومن کے ظہور کا منتظر ہوں۔ تو آپؒ نے فرمایا یہ علامہ نے کہا تھا خلیفہ نے کہا جی ہا ں تو آپؒ نے فرمایا چلو شاہد علامہ کو خبر ہوگئی ہوگی خلیفہ شفیق کہتے تھے کہ حضرت محبوبِ ذاتؒ کا یہ کہنا تھا کہ انکو اس کی خبر ہوگئی ہوگی میرے جسم سے خارش ختم ہوگئی یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس سے محبوبِ ذات کے راز پردہ آٹھ جاتا ہے یہ وہ ہستی ہے جو سیالکوٹ کے قریب تھی لیکن علامہ اقبال کو نہ مل سکی اسی لئے علامہ اقبال فرماتے تھے۔
کبھی اے حقیت منتظر نظر آلباس مجاز میں ہزاروں سجدہ تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں