۱۱ از ۱۲
۵۔ خلیفہ نوازش علی فرماتے ہیں کہ میں دیکھا کہ حضرت محبوب ذاتؒ کے پاس کوئی مریض آتا تو حضرت محبوب ذاتؒ مریض کی بیماری کی طرف اشارہ کرکے فرماتے اے بیماری اللہ کے حکم سے فنا ہوجا۔یہ الفاظ کہنے کہ بعد مریض اپنا دایاں ہاتھ اپنے مرض پر پھیرتا تو وہ مرض ختم ہوجاتا تھا اور صحت یا ب ہو کر چلا جاتا۔
۶۔چوہدری علیم الدین الہ آبادی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت محبو ب ذاتؒ سے ملنے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار محبو ب ذاتؒ اپنا ہاتھ جھٹک رہے تھے اور اُس سے پانی بھی گر رہا تھا جبکہ گرمی بھی نہیں تھی میں نے پوچھا یہ کیا ماجرہ ہے آپؒ نے فرمایا کہ ایک جہاز ڈوب رہا تھا اُسکو دھکا دے کر بچا رہا تھا میں بہت حیران ہوا پھر میری کچھ عرصے کے بعد میری اُس شخص سے بھی ملاقت ہوئی جو اُس جہاز میں موجود تھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے ہی سرکار محبوب ذاتؒ کو مدد کے لئے پکارا تھا جس پر حضرت محبوب ذاتؒ نے مدد کی۔
۷۔۱۹۲۱ میں سرکار محبوب ذاتؒ ایک دین کے لئے آپؒ راولپنڈی سے سکھوں کے علاقے حسن ابدال تشریف لے گئے وہاں سکھوں کے گردوارے سے گزر رہے تھے تو ایک سکھ نے آپؒ سے سوال کیا کہ قرآن مجید کے پڑھنے سے آپؒ کو کیا فائدہ پہنچا۔آپؒ نے فرمایا اِس کتاب نے میرا دین اور دنیا دونوں سنواردی ہیں سکھ نے پوچھا کیا اس کتاب میں ہر چیز موجود ہے آپؒنے فرمایا کہ ہاں پھر سکھ نے پوچھا اس میں سونا بنانے کا طریقہ ہے آپؒ نے فرمایا کہ ایک لوہا کا ٹکڑا لائو سکھ نے ایک لوہے کا ٹکڑا دیا آپؒ نے فرمایا اِس ٹکڑے کو اپنے ہاتھ میں رکھو۔ آپؒ نے اُس ٹکڑے پر نگاہ ڈالی جو سونے میں تبدیل ہوگیا یہ کرامت دیکھ کر تمام سکھ حیران ہوگئے تمام وہ سکھ اور اُن سب کے تمام رشتہ دار سب کے سب سرکار محبوب ذاتؒ کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئے۔
۸۔ ۱۷ ستمبر ۱۹۵۰ میں خطرناک سیلاب آگیا تھا نو فٹ سے زیادہ پانی کی لہر کی یلغار تھی اور سیلا ب دربار شریف کی طرف بڑھ رہا تھا حکومت لوگوں کو محفوظ مقام پر کشتیوں کے زریعہ پہنچا رہی تھی دربار عالیہ میں بھی فوجی جوان کشتی لے کر پہنچ گے۔گائوں والوں کی نظریں سرکار محبوب ذاتؒ کی طرف تھی آپؒ نے فرمایا اللہ پر بھروسہ کرو۔آپؒ اپنا عصا مبارک کو پانی میں گاڑ دیا۔لوگوں نے دیکھا کہ پانی تقریباً پندرہ فت پیچھے ہٹ کر اپنا رخ تبدیل کردیا۔
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں