۱۲ از ۱۲
۹۔ حضرت محبوب ذاتؒ کے تیسرے بیٹے سید افتخار احمد حسین گیلانیؒ فرماتے ہیںرمضان شریف میں بہت گرمی تھی تو میں اپنے والد کے پاس آیا اور عرض کی ابا حضور بارش کے لئے دعاکریں آپؒ نے فرمایا بارش کے اثار نہیں ہیں۔اس لئے تو آپؒ کے خدمت آیا ہوں میں عرض کی ہے آپ نے ایک منٹ کے بعد فرمایا بیٹا قبلہ کی طرف دیکھو کوئی بادل ہیں میں نے کہا ہاں چھوٹے سے بادل ہیں۔ آپؒ نے فرمایا کہ میرے پاس بیٹھ جائو،چنانچہ میں نے حکم کی تعمیل کی۔پانچ منٹ کے اندر وہ چھوٹے سے بادل پورے آسمان پر چھا گئے۔ اور زور دار بارش شروع ہوگئی پھر آپؒ نے فرمایا بیٹا اب روزہ ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ پھر ایک دن میں اور میرے چھوٹے بھائی سید امجد احمد حسین گیلانیؒ گھر کے صحن میں سو رہے تھے اور ہمارے سرہانے ہمارے والد محترم اپنے تخت مبارک پر تشریف رکھتے تھے۔آپؒ فرمانے لگے کہ بادل گرج رہے بارش زور کے ہونے والی ہے ہم بچے تھے ہم نے کہا ہم سو رہے یہ بادل کہیں او ر نہیں برس سکتے ہیں۔ آپؒ نے فرمایا اے حاملینِ بارش جائو کہیں اور جا کر بارش کرو۔ چنانچہ بادل ہٹ گئے اور ہم سوتے رہے۔
و عل
ہہ
رے م
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں