حضرت محبوبِ ذاتؒ — مختصر حالات اور کرامات
۲ از ۳
۳۔شیخ محمد ابراہیم صاحب دربار شریف میں آکر اپنا ایک قصہ خود سرکار محبوب ذاتؒ کو سنایا کہ میں فوت ہوگیا تھا تو میری بیوی نے مجھے بعد میں بتایا کہ میں اور میرے بچے اور سب رونے لگے اور ہماری چیخ و پکار سے محلے والے بھی اکھٹے ہو گے تھے پھر فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ مجھے فرشتے پکڑ کر لے گئے ایک عالیٰ شان دربار لگا ہوا تھا وہ حضور محبوب ذاتؒکا دربار تھا فرشتے حضور محبوب ذاتؒ کے سامنے رجسٹر رکھتے اور مرنے والے کی منظوری لیتے تھے جب میرا رجسٹر سامنے رکھا تو حضور محبوب ذاتؒ نے فرمایا کہ ابھی انکو رہنے دو ان کو دنیا میں واپس کردو ان کے بچے بہت بے حال ہیں یہ حکم صادر ہوتے ہیں میرے جسم میں روح داخل ہوگی اور میں زندہ ہوگیا مجھے زندہ ہوتے دیکھ کر تمام لوگ ڈر گئے اور باہر کی طرف بھاگے۔میں نے کہا ڈرو نہیں میں زندہ ہوگیا ہوں۔
۴۔محمد یوسف امر تسری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کمرے کی چھت میرے اوپر گر گئی اور میں سینکڑوں من ملبے کے نیچے دب گیا اور بے ہوشی کے عالم میں حضرت محبوب ذاتؒ کو یاد کیا اور التجا کی کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں کمانے والا کوئی نہیں ہے مجھے بچا لیں پھر فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت محبوب ذاتؒفرمارہے ہیں کہ یوسف تم نہیں مرو گے اللہ تعالیٰ نے تمہاری عمر بڑھادی ہے پھر مجھے ملبے سے نکال کر ہسپتال میں چیک کرکے دیکھا کہ یہ زندہ اور صحیح ہیںیعنی بالکل ٹھیک ہیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔
۵۔ خلیفہ نوازش علی فرماتے ہیں کہ میں دیکھا کہ حضرت محبوب ذاتؒ کے پاس کوئی مریض آتا تو حضرت محبوب ذاتؒ مریض کی بیماری کی طرف اشارہ کرکے فرماتے اے بیماری اللہ کے حکم سے فنا ہوجا۔یہ الفاظ کہنے کہ بعد مریض اپنا دایاں ہاتھ اپنے مرض پر پھیرتا تو وہ مرض ختم ہوجاتا تھا اور صحت یا ب ہو کر چلا جاتا۔
۶۔چوہدری علیم الدین الہ آبادی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت محبو ب ذاتؒ سے ملنے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار محبو ب ذاتؒ اپنا ہاتھ جھٹک رہے تھے اور اُس سے پانی بھی گر رہا تھا جبکہ گرمی بھی نہیں تھی میں نے پوچھا یہ کیا ماجرہ ہے آپؒ نے فرمایا کہ ایک جہاز ڈوب رہا تھا اُسکو دھکا دے کر بچا رہا تھا میں بہت حیران ہوا پھر میری کچھ عرصے کے بعد میری اُس شخص سے بھی ملاقت ہوئی جو اُس جہاز میں موجود تھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے ہی سرکار محبوب ذاتؒ کو مدد کے لئے پکارا تھا جس پر حضرت محبوب ذاتؒ نے مدد کی۔
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں