حضرت محبوبِ ذاتؒ — مختصر حالات اور کرامات
۱ از ۳
اسم مبارک۔احمد حسین
کنیت۔ ابو محمد
القاب:۔ موید الدین۔ محبوب ذات۔ نوراللہ
آپؒ کی ولادت ۱۲ ربیع الاول ۱۳۱۴ بروز جمعہ
آپؒ پردہ کرناَ ۲۱ شعبان وقت سوا آٹھ بجے چہار شنبہ ۸ فروری ۱۹۶۱
کرامت:۔
۱۔ آ پؒ کے فرزند سید اقبال احمد حسین گیلانی فرماتے ہیں کہ ایک شب میں اپنے کمرہ سے باہر آیا تو دیکھا آپؒ اپنی عبادت گاہ میں لیٹے ہوئے ہیں اور ان کا چہرہ اقدس منور اور اس طرح روشن ہے کہ اس نور کی تجلیات میں آپؒ کی ریش مبارک بھی دکھائی نہیں دیتی۔میں نے اپنے بڑے بھائی حضرت اول پاکؒ اور پھر آپؒ کے ماموں حضرت سید حیدر علی شاہؒصاحب کو بلا کر زیارت کرائی۔اسی طرح آپؒ کے خلیفہ چوہدری شیر محمد ۱۹۶۰ میں درجنوں مریدوں نے یہ منظر کھلی آنکھوں سے دیکھا آپؒ کے چہرہ مبارک سے نور کی تجلیاں سامنے والی دیوار پر پڑ رہی تھی نور کی تجلیات کی وجہ سےآپؒ کی ریش مبارک نظر نہیں آرہی تھی کافی دیر تک زیارت کی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
۲۔آپؒ کے بڑے بیٹے سید افضال احمد حسین گیلانیؒ ایک واقعہ بیان کیا کہ حضرت محبوب ذاتؒ ۱۹۳۶ میں انبالہ شریف میں قیام پذیر تھے ایک عورت (جس پر جن کا سایہ تھا) کے رشتہ دار اِس کو لے کر حضرت محبوب ذاتؒ کے پاس لے کر آئے۔آپؒ نے نگاہ ڈالی تو آسیب زدہ عورت زدہ عورت کو آگ لگ گئی۔اس کے رشتہ دار وں نے عورت کو جلتے دیکھ کر شور مچا دیا۔آپؒ انکو خاموش رہنا کا حکم دیا اور فرمایا کہ جن جل رہا ہے۔ تمہاری عورت کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ تھوڑی دیر بعد آگ ختم ہوئی تو لڑکی بالکل صحیح و سالم تھی۔ آپؒ اس واقعہ کے بعد مسجد میں جہر کی نماز ادا کرنے چلے گے نماز سے فارغ ہوئے تو آپؒ نے دیکھا جنات نے مسجد کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ہمارے پیارے نبی ﷺ کا دربار لگا ہوا ہے اور حضر ت سلیمانؑ میرے جن جلانے کی شکایت کررہے ہیںحضور ﷺ نے فرمایا اِن کی شکائت سن رہے ہیں۔میں نے عر ض کیا حضور ﷺ ان سے عہد لیں کہ آ پ ﷺ کی اُمت کو تنگ نہیں کریں گے تو میں جنات کو نہیں جلائوں گا چناچہ حضرت سلیمانؑ نے جنات سے عہد لیا۔وہ عہد نامہ آج تک چل رہا ہے جب کوئی آسیب زدہ یا اِس کا کوئی رشتہ دار دربار شریف دُعا کے لئے حاضر ہوتا تو اُس شفاء ہوجاتی
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں