حضرت محبوبِ ذاتؒ — مختصر حالات اور کرامات
۳ از ۳
۷۔۱۹۲۱ میں سرکار محبوب ذاتؒ ایک دین کے لئے آپؒ راولپنڈی سے سکھوں کے علاقے حسن ابدال تشریف لے گئے وہاں سکھوں کے گردوارے سے گزر رہے تھے تو ایک سکھ نے آپؒ سے سوال کیا کہ قرآن مجید کے پڑھنے سے آپؒ کو کیا فائدہ پہنچا۔آپؒ نے فرمایا اِس کتاب نے میرا دین اور دنیا دونوں سنواردی ہیں سکھ نے پوچھا کیا اس کتاب میں ہر چیز موجود ہے آپؒنے فرمایا کہ ہاں پھر سکھ نے پوچھا اس میں سونا بنانے کا طریقہ ہے آپؒ نے فرمایا کہ ایک لوہا کا ٹکڑا لائو سکھ نے ایک لوہے کا ٹکڑا دیا آپؒ نے فرمایا اِس ٹکڑے کو اپنے ہاتھ میں رکھو۔ آپؒ نے اُس ٹکڑے پر نگاہ ڈالی جو سونے میں تبدیل ہوگیا یہ کرامت دیکھ کر تمام سکھ حیران ہوگئے تمام وہ سکھ اور اُن سب کے تمام رشتہ دار سب کے سب سرکار محبوب ذاتؒ کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئے۔
۸۔ ۱۷ ستمبر ۱۹۵۰ میں خطرناک سیلاب آگیا تھا نو فٹ سے زیادہ پانی کی لہر کی یلغار تھی اور سیلا ب دربار شریف کی طرف بڑھ رہا تھا حکومت لوگوں کو محفوظ مقام پر کشتیوں کے زریعہ پہنچا رہی تھی دربار عالیہ میں بھی فوجی جوان کشتی لے کر پہنچ گے۔گائوں والوں کی نظریں سرکار محبوب ذاتؒ کی طرف تھی آپؒ نے فرمایا اللہ پر بھروسہ کرو۔آپؒ اپنا عصا مبارک کو پانی میں گاڑ دیا۔لوگوں نے دیکھا کہ پانی تقریباً پندرہ فت پیچھے ہٹ کر اپنا رخ تبدیل کردیا۔
۹۔ حضرت محبوب ذاتؒ کے تیسرے بیٹے سید افتخار احمد حسین گیلانیؒ فرماتے ہیںرمضان شریف میں بہت گرمی تھی تو میں اپنے والد کے پاس آیا اور عرض کی ابا حضور بارش کے لئے دعاکریں آپؒ نے فرمایا بارش کے اثار نہیں ہیں۔اس لئے تو آپؒ کے خدمت میں عرض کی ہے آپ نے ایک منٹ کے بعد فرمایا بیٹا قبلہ کی طرف دیکھو کوئی بادل ہیں میں نے کہا ہاں چھوٹے سے بادل ہیں۔ آپؒ نے فرمایا کہ میرے پاس بیٹھ جائو،چنانچہ میں نے حکم کی تعمیل کی۔پانچ منٹ کے اندر وہ چھوٹے سے بادل پورے آسمان پر چھا گئے۔ اور زور دار بارش شروع ہوگئی پھر آپؒ نے فرمایا بیٹا اب روزہ ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ پھر ایک دن میں اور میرے چھوٹے بھائی سید امجد احمد حسین گیلانیؒ گھر کے صحن میں سو رہے تھے اور ہمارے سرہانے ہمارے والد محترم اپنے تخت مبارک پر تشریف رکھتے تھے۔آپؒ فرمانے لگے کہ بادل گرج رہے بارش زور کے ہونے والی ہے ہم بچے تھے ہم نے کہا ہم سو رہے یہ بادل کہیں او ر نہیں برس سکتے ہیں۔ آپؒ نے فرمایا اے حاملینِ بارش جائو کہیں اور جا کر بارش کرو۔ چنانچہ بادل ہٹ گئے اور ہم سوتے رہے۔
ہ
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں