حضرت محبوبِ ذاتؒ — حالاتِ زندگی
۲ از ۸
حضرت محبوبِ ذاتؒ پیدائیشی ولی اور اِس صدی کی بڑی ہستی ہیں اور ایسی ہستی صدّیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ آپؒ کو بچپن میں جب آپؒ کے استا دِ محترم نے جب الف سے آم پڑھنے کے لیے کہا تو آپؒ نے الف سے آللہ پڑھا استاد حیران تھے او ر فرماےا کے کم سنی میں ہی باطنی شعور رکھتے ہیں آپؒ بچپن ہی سے رحم دل اور خدا ترس انسان تھے آپؒ اپنے والدین کے واحد اولاد تھے اِس لیے آپؒ کے والدین نے آپؒ کے کانوں میں سونے کی بالیاں ڈالتے تھے ایک دفعہ ایک کہلونے بیچنے والی عورت نے حسرت بھری نگاہ سے کہا کہ کاش میں بھی اپنی بیٹی کو ایسی بالیا ں مہےّا کر سکوں۔ یہ سن کر آپؒ اپنے کانوں سے وہ بالیاں اُتار کر اُسکو دیدیں عورت بالیاں لے کر تذبذب کا شکار ہو گی کہ کےا کرے آپؒ نے فرماےا مائی آپ جب تک نظروں سے دور نہیں ہو جاو گی اُس وقت میں گھر نہیں جاؤں گا اور آپؒ نے ایسا ہی کےا۔ آپؒ جوانی میں تمام رات عبادتِ اِلہی میں محو رہتے تھے۔ آپؒ رات کو انکھوں میں مرچیں ڈال لیا کرتے تھے تاکہ نیند نہ آے۔ آپؒ جبکہ دِن میں مُلازمت بھی کرتے تھے۔ آپؒ مری کی پہاڑیوں میں اور جنگلات میں جہاں آبادی نہیں تھی البتہ خطرناک جانور مثلاً شیر اور چیتے ہوتے تھے پوری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار دیتے لیکن کبھی کوئی جانور نے آپؒ کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ایک دفعہ ایک شیر کا پائوں آپؒ کے پاوٓں پر پڑ گےا تو شیر کو ایک بجلی جیسا جھٹکا لگا اور وہ کھائی میں گر کر مر گےا تب سے وہ کھا ئی شیروں کی باولی سے مشہور ہو گےا مری سے دُور کوہالا کے مقام پر دریاےٓ جہلم میں ساری رات پائوں ڈبو کر عبادت کرتے تھے چاہے سردی ہو ےا برف باری ہو عبادتِ الہٰی سے غافل نہیں ہوتے۔ اپر ٹوپہ ایک مقام ہے جہا ں آپؒ عبادت فرماتے تھے تو ایک ناگ آپؒ کے حجرہ پر پہرہ دیتا تھا اور صبح جب آپؒ اپنے حجرے سے باہر تشریف لاتے تو وہ ناگ وہاں سے ہٹ جاتا اور جب آپؒ وہاں سے تشریف لے آئے تو پِھر کبھی کسی نے اُس ناگ کو وہاں نہیں دیکھا۔
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں