۵۶ از ۷۱
پیدائش: حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ ۵۳۷ ہجری میں پیدا ہوئے۔
خواجہ معین الحق بن غیاث الدین بن سید کمال الدین بن سید احمد حسن بن سید طاہر ابن سید عبدالعزیز بن سید ابراہیم بن سید محمد مہدی بن امام حسن عسکری بن امام نقی ۔۔۔ بن امام موسیٰ رضا بن امام جعفر بن محمد باقر بن امام علی زین العابدین بن سید الکونین امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے حضرت شیخ عثمان ہارونی سے بیعت کی (حضرت عثمان ہارونی ؒ بھی حضرت علی ؓ کی اولاد طیبہ میں سے ہیں آپ گیارہ واسطوں سے حضرت علی ؓ سے منسوب ہوتے ہیں) ایک روز عبادت الٰہی میں مصروف تھے کہ روضہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آواز آئی۔
’’اے معین الدین تو ہمارے دین کا معین اور مددگار ہے ولایت ہندوستان ہم نے تجھے عطا کی ہے جا اور اجمیر جا کر اقامت کر وہاں تاریکی پھیلی ہوئی ہے تیرے وہاں کے قیام سے بے دینی دُور ہو گی اور اسلام رونق پذیر ہو گا‘‘۔ بارگاہ رسالت ﷺ سے اس حکم کو پا کر آپ بیحد مسرور ہوئے مگر یہ معلوم کرنے کے لئے بڑے بے تاب اور پریشان تھے کہ اجمیر کہاں ہے اور ہندوستان میں کس جگہ واقع ہے اس فکر میں آنکھ لگ گئی تو آپ کیا دیکھتے ہیں آپ ﷺ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہیں۔ آپ ﷺ نے مشرق سے مغرب تک سیر کرا دی اور کوہِ اجمیر کا بھی مشاہدہ کرایا۔ آپ دس محرم ۵۶۱ ہجری کو اجمیر میں تشریف لائے۔
۱۔ آپ نے ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا یہ وہ جگہ تھی جہاں راجہ کے اونٹ باندھے جاتے تھے۔ رات کے وقت جب راجہ کے اونٹ آئے تو ملازمین نے کہا کہ حضرت یہ جگہ راجہ کے اونٹوں کے لئے ہے یہاں آپ کو قیام نہیں کرنا چاہیئے۔ آپ نے فرمایا اچھا بھائی ہم یہاں سے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں