۹۹ از ۱۰۰
صلاح الدین صاحب اِدھر آؤ۔ میں فوراً اُٹھا اور حضورِ پاک محبُوبِ ذات کے پاس چلا گیا حضورِ پاک مجھے سرکار سوم پاک کے کمرہ مبارک کے سامنے لے آئے اور مجھے تین مرتبہ سینہ مبارک سے لگایا میں نے حضورِ پاک محبوبِ ذات کے گلے ملتے وقت حضورِ پاک کی زلفِ عنبریں کو بوسہ دیا اور مجُھ پر مستی طاری ہو گئی۔ اسی کیفیت میں حضورِ پاک نے ارشاد فرمایا۔ صلاح الدین مجھے وہ نعت سناؤ جو آپ نے لکھی ہے
میں نے حضورِ پاک کے حکم کی تعمیل کی۔
خلیفہ مُحمّد شفیع جوڑیاں ضلع سیالکوٹ کے اپنا مشاہدہ یوں بیان کرتے ہیں کہ میری دکان کریانہ کی تھی۔ حضور سرکارِ عالی کا سودا سلف میری دکان سے آتا تھا۔ کچھ روپے میں نے حضور سے سودے کے سلسلہ میں لینے تھے کہ حضورِ پاک مشاہدہ میں تشریف لائے۔ حضور کے بدن مبارک سے روشنی اس قدر نکل رہی تھی کہ چاند کی چاندنی میں بھی اتنی روشنی نہیں تھی۔
مُحمّد حسین صاحب جہلم کے بیان کرتے ہیں کہ مجھے ۱۹۷۹ء کے محرم الحرام کی شبِ عاشورہ یہ نظر آیا کہ میں میدانِ کربلا میں کھڑا ہوں کربلا معلیٰ میں ایک ہستی نظر آئی۔ میں نے جہلم کے آس پاس اُس ہستی کی تلاش کی لیکن وہ ہستی نہ ملی۔ میرے دوست رحمت علی عرف میجر صاحب کو میں نے اپنا مشاہدہ سُنایا وہ مجھے لے کر دربار شریف آ گئے۔ میں نے محبُوبِ ذات کے روضہ کی زیارت کی۔ تو مجھے وہی صورت نظر آئی جو میرے مشاہدہ میں میدانِ کربلا معلیٰ میں نظر آئی تھی۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں