۱۰۰ از ۱۰۰
ریٹائرڈ تحصیلدار علی مُحمّد [ناخواندہ] کے بیان کرتے ہیں کہ میں نے مشاہدہ میں حضور سرکارِ عالی کو دیکھا آپ فوجی وردی میں ملبوس ہیں۔ دستِ مبارک میں تلوار مبارک ہے۔ حضورِ پاک محاذِ جنگ سے فاتح بن کر آ رہے ہیں۔ جس جنگ میں اسلام کو فتح اور کفر کو شکست ہوئی۔ یہ ستمبر ۱۹۶۵ء کا واقعہ ہے۔
نذیر احمد عرف جیلا پہلوان لاہور کے اپنا مشاہدہ یوں بیان کرتے ہیں کہ نوری تخت پر حضور سرکارِ عالی جلوہ افروز ہیں۔ میں نے حضور کے قدم مبارک چُومے۔ حضورِ پاک نے مجھے اپنے پاؤں سے اٹھا کر اپنے سینہ مبارک سے لگا لیا۔
صغیر احمد اچھرہ لاہور کے اپنا مشاہدہ یوں بیان کرتے ہیں کہ میں ۱۹۵۸ء میں دربار شریف منڈیر سیداں میں حضور سرکارِ عالی کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا۔ حضورِ پاک اپنی مسندِ پاک پر تشریف فرما تھے۔ حضور نے میرے ساتھ کسی قسم کی گفتگو نہ کی۔ میں واپس لاہور چلا گیا۔ رات کو مشاہدہ میں حضور کو دیکھا آپ کے سرِ اقدس پر نوری تاج ہے اور آپ نور کے تخت پر جلوہ افروز ہیں۔ آپ کے جسمِ اطہر سے نور کی شعائیں نکل رہی ہیں۔ آپ نے اپنی زبان اطہر سے ارشادِ پاک یہ فرمایا۔ صغیر تجھے دنیاوی کام میں کبھی رکاوٹ نہ ہوگی اور دین میں بھی میں تیرے ساتھ ہوں۔
خلیفہ اللہ دتا سیالکوٹ کے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ۱۹۵۲ء میں حضور سرکارِ عالی کی بیعت کی کہ مجھ پر حضور کا اتنا کرم تھا کہ جس دن بیعت کی اُس دن مجھ پر بہُت انکشاف ہوتے۔ میں نے اپنے مشاہدہ میں دیکھا کہ حضور کے وجودِ اطہر سے نور کی کئی رنگوں کی (سُرخ، سبز، نیلی) تجلّیاں ظاہر ہوئیں، جنہیں میں اِن کھلی آنکھوں سے دیکھتا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں