۹۵ از ۱۰۰
جعفر صاحب گوجرانوالہ کے بیان کرتے ہیں کہ میں حضور پاک کا ۱۹۵۵ء میں بیعت ہوا۔ میں بیوی بچّوں سمیت دربار شریف میں رہتا تھا۔ ایک یوم میرا بچہ سخت بیمار ہو گیا۔ میں نے حضور پاک سے عرض کی ایک آنِ واحد میں میرا بچّہ تندرست ہو گیا اور کھیلنا شروع کر دیا۔
قربان حُسین گوجرانوالہ کے بیان کرتے ہیں۔ ایک دفعہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ ٹیکسی میں سوار تھا۔ برسات کا موسم تھا۔ دورانِ سفر موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ ہمارے آگے ایک ٹرک جا رہا تھا جو یکایک رُکا اور ہماری ٹیکسی کے ڈرائیور نے بریک لگائی جس سے ہماری ٹیکسی سلپ ہو کر درخت سے ٹکرا کر ایک کھڈ میں جا گری۔ میں نے دورانِ ایکسیڈنٹ حضور پاک کو یاد کیا۔ سرکارِ عالی کی کرامت سے میں اور میرے ساتھی بخیریت محفوظ رہے لیکن ٹیکسی کا قدرے نقصان ہوا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں