۹۳ از ۱۰۰
۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان سے مجھے قیدی بنا لیا گیا۔ لیکن ہر ہر مرحلے پر سرکارِ عالی نے میری راہنمائی فرمائی اور واپسی پر ۱۹۷۴ء میں مجھے الائیڈ بنک میں سینئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ مقرر کیا گیا اور اسی طرح حضور کی کرم نوازی سے بندہ کو ۱۹۷۷ء میں بنکاری کا سب سے بڑا اعزاز مظفر میموریل گولڈ میڈل دیا گیا اور اب حضور کے ہی کرم سے میں ممبر بینکنگ کونسل ہوں۔ اور اَب پریذیڈنٹ الائیڈ بینک ہوں۔
ایک روز میں حضور سرکار سوئم صاحب کے ہمراہ نہر اپر چناب پر سیر کرنے گیا۔ راستے میں ایک شخص جس نے اپنا نام محمد دین بتلایا ملا۔ گفتگو کے دوران اُس نے جو سرکارِ عالی کی کرامت بیان کی۔ وہ میرے لیے تو حیران کن نہ تھی۔ لیکن میں نے یہ سمجھا کہ اُسے کتاب ہذا میں ضرور شامل کیا جائے تاکہ طالبین مستفیض ہوں۔
محمد دین بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میرا لڑکا جو بمشکل چھ ماہ کا ہوگا شدید بیمار ہو گیا۔ اُس کے سانس اکھڑنے لگے۔ میری بیوی نے رونا شروع کر دیا۔ میں نے دلاسا دیا کہ جو اللہ کی مرضی۔ لیکن وہ نہ مانی اور اصرار کرنے لگی کہ مجھے پیر صاحب کے پاس لے جاؤ۔ میں نے کہا کہ اب پیر صاحب کیا کر لیں گے۔ جب کہ اس کی زندگی ہی ختم ہو گئی ہے۔ لیکن وہ چیخیں مار کر رونے لگی اور بالآخر نیم مُردہ بچے کو ہم حضور سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات کی خدمت میں لے آئے۔ آپ نے بچے کو دیکھتے ہی فرمایا تم لوگ کیوں وہم کرتے ہو۔ بچہ تو ٹھیک ہے۔ میری بیوی حیرانی سے حضور کو دیکھنے لگی کیونکہ بچّہ سانس بھی اٹک اٹک کر لے رہا تھا۔ حضور سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات نے دُعا فرمائی اور اسی لمحے بچہ تندرست ہو کر ہاتھ پاؤں چلانے لگا اور تھوڑی دیر بعد صرف چھ ماہ کا بچّہ چاروں ہاتھ پیروں کے بل چلنے لگا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں