۹۲ از ۱۰۰
رابطہ ٹوٹ گیا۔ سب لوگ دعائیں مانگنے لگے۔ میں نے سرکارِ عالی کا تصور کیا۔ کھڑکی سے کیا دیکھتا ہوں کہ حضور سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات اپنے دستِ مبارک سے پہیوں کو تھامے ہوئے جہاز کو ہوائی اڈے پر اتار رہے ہیں۔ اسی دوران مواصلاتی رابطہ ٹھیک ہو گیا اور ہم بخیر و عافیت حضور سرکارِ عالی کی کرم نوازی سے منزل پر پہنچے۔
۱۹۵۵ء میں میں بنکنگ کے ایک امتحان میں شامل ہوا۔ ایک صبح ہمارے پیر بھائی معین الدین صاحب نے مجھے ٹیلیفون کیا۔ لیکن میں گھر سے نکل چکا تھا۔ جب پرچہ شروع ہوا تو میرے دل سے آواز آئی کہ شروع نامِ محبوبِ ذات سے کرو۔ چنانچہ میں نے انگشتِ شہادت سے حضورِ عالی کا اسمِ پاک تحریر کیا۔ پرچہ تسلی بخش ہوا۔ جب واپس آیا تو معین الدین صاحب سے پیام ملا کہ سرکارِ عالی فرماتے ہیں کہ پرچہ سرکارِ معصوم کے نامِ اطہر و مطاہر سے شروع کریں۔ اللہ تعالیٰ نے خادم حسین کے لیے امتحان میں سنہری کامیابی منظور فرمائی ہے۔ میں نے معین الدین صاحب سے کہا۔ میں نے ایسا ہی کیا ہے۔ وہ کافی حیران ہوئے۔ میں نے عرض کی جو شخصیت آپ تک ارشاد پہنچا سکتی ہے وہ میری راہنمائی کیوں نہیں کر سکتی۔ المختصر اس امتحان میں میں اوّل رہا اور میری کامیابی سنہری رہی۔ اسی سال حضور شہزادہ اوّل صاحب کی سفارش پر اس ناچیز کو خلافت عطا کی گئی۔
۱۹۵۷ء میں میرا تبادلہ سیالکوٹ ہو گیا۔ دربارِ عالیہ منڈیر سیداں میں حاضری دیتا رہا۔ ایک روز حضور سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات نے ارشاد فرمایا۔ کراچی جا کر آپ کو ایسا عہدہ ملے گا جس کا آپ تصوّر بھی نہیں کر سکتے تھے بعین ہوا بھی ایسے۔ مجھے بنک کی سب سے بڑی برانچ کا مینجر بنا دیا گیا۔ جس کا میں تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا۔
۱۹۶۹ء میں حضور شہزادہ دوئم صاحب اور حضور شہزادہ سوئم صاحب کے ساتھ اس بندہ کو حج بیت اللہ کا شرف حاصل ہوا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں