۸۸ از ۱۰۰
صاحب یہاں سے ڈیڑھ صد میل کے فاصلے پر ہیں حضور سرکارِ عالی کیسے پوچھیں گے کیونکہ میں روحانیت سے بالکل بے بہرہ تھا۔ حضور سرکارِ عالی نے اپنا رُخ بائیں طرف پھیر کر کہا۔ السلام علیکم۔ تھوڑے وقفہ کے بعد میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ ماشاء اللہ تمہارا پیر بہُت سوہنا ہے اور حضرت صاحب کا حلیہ اور لباس جو انہوں نے زیبِ تن کیا ہوا تھا مجھے بتایا حضرت صاحب بصد خوشی رضامند ہو گئے۔ حضور سرکارِ عالی نے بیعت فرما لیا اور فرمایا کہ یہاں تمہاری بیعت طریقت کی ہو گی پہلے شریعت کی بیعت تھی۔
۱۹۵۹ء کی ایک گرمیوں کی شام بندہ اور سیّد محمد منشا شاہ صاحب حضور سرکارِ عالی کی بارگاہ میں حاضر تھے۔ غربی کمرے سے ایک بی بی نے عرض کیا کہ سرکارِ عالی لنگر کا وقت ہونے والا ہے مگر آٹا نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا چاول پکا لو۔ اندر سے آواز آئی چاول گھی اور دال وغیرہ بھی نہیں ہیں۔ یہ سُن کر ہم دونوں پریشان ہو گئے۔ دربار شریف میں اس وقت کم از کم دو صد افراد کھانا کھانے والے موجود تھے اب کیا ہو گا۔ ہم دونوں نے اپنی سنہری انگوٹھیاں اور پچاس پچاس روپے حضور سرکارِ عالی کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لیے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے جس پر حضور پاک نے یہ شعر پڑھا۔
اور فرمایا آج اللہ تعالےٰ کے لنگر میں کچھ نہیں ہے۔ حضورِ پاک نے ہماری طرف دیکھ کر فرمایا۔ "سوہنیوں تسیں کیوں غم زدہ ہو گئے ہو۔ انگوٹھیاں اور نقدی اپنے پاس رکھو لنگر والا اپنے لنگر دا خود انتظام کرے گا"۔ چند ساعت کے بعد دو آدمی جو بڑے قد آور تھے حاضر ہوئے۔ ایک نے سر پر قریباً دو من چاول اُٹھا رکھے تھے اور دوسرے نے ایک بڑی پیتل کی بالٹی اٹھا رکھی تھی جس میں کم از کم پندرہ بیس سیر گھی ہو گا۔ دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا اور کہا کہ سرکار لنگر کے لیے چاول اور گھی لائے ہیں قبول فرماویں
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں