۸۶ از ۱۰۰
پریشان کرتا تھا۔ اس وقت مجھے حضور سرکارِ عالی کی غلامی حاصل ہوئے صرف ایک سال ہی گزرا تھا اور میں عشق کی رموز سے زیادہ آشنا نہ تھا مگر ساتھ ہی مجھے یہ خیال آیا کہ آئندہ دربار شریف کی حاضری نصیب ہونے پر یہ سوال بارگاہِ عالیہ میں پیش کروں گا۔ ابھی چند روز ہی گذرے تھے کہ ایک رات کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے گاؤں کے تکیہ کے جنوب غربی کونہ کے ساتھ تکیہ سے نیچے کھڑا ہوں۔ حضور سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات تکیہ کے ساتھ غربی راستہ پر شمال کی جانب بہت تیزی سے تشریف لا رہے ہیں۔ حضور خاکی فوجی وردی میں ملبوس ہیں۔ دائیں ہاتھ میں تلوار ہے۔ آپ محاذِ جنگ سے آ رہے ہیں جو کفار کے ساتھ ہوئی تھی۔ تلوار کفار کے خون سے آلود تھی۔ جنگ اسلام اور کفر کے مابین ہوئی تھی اور سرکارِ عالی فتحیاب ہو کر واپس آ رہے تھے۔ پاؤں اقدس سے چلنے کی آواز کھڑاک آ رہی تھی۔ سرکارِ عالی میرے پاس سے گذر گئے۔ فوراً بعد حضور تکیہ کے جنوب کی طرف ساتھ ساتھ چل کر تکیہ کے مشرق میں مُڑ کر دروازہ کے راستے میرے قریب پیپل کے درخت کے پاس تشریف فرما ہو گئے۔ اس وقت حضور اپنے شاہی نوری لباس میں ملبوس تھے اور جسمِ اطہر کا ہر حصّہ پُر وقار تھا۔ میں فوراً اچھل کر تکیہ کی تین فٹ بلند سطح پر چڑھ کر حضور پاک کے قدم مبارک پر سجدہ ریز ہو گیا۔ ابھی میں سجدہ کی حالت میں ہی تھا کہ حضور پاک نے ایک بہت پتلی سی چھڑی میری کمر پر لگائی اور فرمایا قصوروار نہ ہے ورغلایا گیا ہے۔ معاف کر دو کہ آنکھ کھُل گئی۔
چند روز بعد جب مجھے قدمبوسی کا شرف حاصل ہُوا تو عرض کیا حضور غلطی ہو گئی ہے، معاف فرما دیویں۔ آپ نے فرمایا۔ سوہنیا ایک بار جو معافی مل گئی۔ اب بار بار کیا ضرورت ہے۔ عرض کیا وہ معافی باطن میں ملی ہے ظاہری معافی بھی فرما دیویں۔ دو نفل شکرانہ ادا کرنے کا حکم ہُوا۔ تعمیل کے بعد حاضر مریدین سمیت دُعائے معافی فرمائی۔ اس طرح حضور سرکارِ عالی حضرت محبوبِ ذات کی کرم نوازی سے مجھ پر یہ عقدہ کھُلا کہ قدمبوسی
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں