۸۵ از ۱۰۰
۱۔ ماہِ ستمبر ۱۹۵۵ء میں مَیں سول ہسپتال شکر گڑھ میں بوجہ دردِ گردہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ حضور سرکارِ عالی نے مجھے باطنی ملاقات کا شرف بخشا جب کہ اس وقت تک میں حضور کے دستِ مبارک پر بیعت نہ تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا حضور پاک نورانی لباس میں ملبوس شاہی تاج پہنے ہوئے ہیں۔ آپ کے جسمِ اطہر سے خوشبو [ناخواندہ] رہی ہے۔ تمام ماحول معطّر ہے اور وجودِ اطہر سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں۔ آپ [ناخواندہ] ہاتھ پکڑ کر مجھے ایک نورانی محفل میں لے گئے جہاں مجھے بہت فرحت حاصل ہوئی اور آنکھ کھل گئی۔ بیماری میں کافی کمی ہو چکی تھی اور صبح تک میں تندرست ہو گیا حتےٰ کہ ہسپتال سے فارغ ہو کر گھر واپس چلا آیا۔
اس کے دو ہفتے بعد مجھے دربارِ عالیہ منڈیر سیّداں حاضری کا شرف حاصل [ناخواندہ] یہاں پہنچ کر میں نے خواب میں دیکھا ہُوا حال عین بہ عین پایا اور فوراً ہی طبیعت میں حضور سرکارِ عالی کی غلامی حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو گیا چنانچہ اسی روز مجھے حلقۂ غلامی میں شرفِ قبولیت بخشی گئی۔
۲۔ بسلسلۂ ملازمت میں موضع فروز والہ گوجرانوالہ میں تعینات تھا۔ سیّد ذوالفقار علی انجمن امدادِ باہمی کی ڈسپنسری کے انچارج بھی میرے ساتھ ہی سکونت پذیر تھے۔ خورد و نوش کا انتظام اکٹھا تھا۔ اکثر دربارِ عالیہ اور حضور سرکارِ عالی قدس سرہٗ کی شان میں ذکر [ناخواندہ] ہوتا رہتا تھا۔ ایک روز شاہ صاحب نے کہا کہ اس نے سُنا ہے کہ اکثر لوگ دربارِ عالیہ میں سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے جواباً شاہ صاحب کو بتایا کہ حضور سرکارِ عالی سختی سے سجدہ کرنے کی ممانعت فرماتے ہیں مگر عقیدتمند تعظیماً قدمبوسی کر لیتے ہیں تاہم مجھے بھی یہ عمل
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں