۸۴ از ۱۰۰
حضور نے چینک سے میری پیالی میں چائے انڈیل کر اپنی پیالی میں بھی چائے ڈال لی اور ایک چمچ مجھے ایک چمچ خُود اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا آپ نے اپنی پیالی میں چمچ ہلانا شروع کیا اور مجھے بھی اِسی عمل کی تاکید کی چمچ کو سرکارِ عالی ہلاتے جاتے اور زبان اطہر سے فرماتے جاتے چلو گرم ہو جاؤ چلو گرم ہو جاؤ میری اور حضور کی پیالی میں سے بھاپ اُڑنا شروع ہو گئی۔
خلیفہ حسرت علی شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور سرکارِ عالیؒ انبالہ شریف میں ۱۹۳۷ء میں تشریف رکھتے تھے کہ میرا چشم دید واقعہ ہے کہ ایک شخص کو چارپائی پر ڈال کر لایا گیا جو بارہ سال سے چارپائی پر پڑا ہُوا چلنے پھرنے سے لاچار تھا۔ حضور سرکارِ عالیؒ نے ربّ العزّت کے حضور اس چارپائی پر جکڑے ہُوئے مریض کے لیے دُعا فرمائی ربّ تعالیٰ نے آنِ واحد میں اس مریض کو شفا دے دی اور مریض جو چارپائی پر آیا تھا اپنی ٹانگوں سے چل کر گیا۔
خلیفہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایسے سینکڑوں واقعات میں نے حضور عالی کے پونے چار سال انبالہ کے قیام میں دیکھے ہیں ہر قسم کا مریض تندرست ہو کر جاتا۔
سُلطان احمد ولد عمر دین بیان کرتے ہیں کہ مجھے عرصہ اڑھائی سال سے پیٹ میں تلّی تھی بہُت علاج کیے پیروں سے دم کرائے لیکن آرام نہ آیا حضور سرکارِ عالی ۱۹۳۹ء میں انبالہ سے آتے تو ان کی خدمت میں حاضر ہُوا اور عرض کی حضور دُعا فرما دیں کہ میرے پیٹ کی تلّی ختم ہو جائے اور شفایاب ہو جاؤں حضور پاکؒ نے ربّ العزّت کی بارگاہ میں دُعا کی اور مجھے ایک آنِ واحد میں محسوس ہُوا کہ جیسے تلّی میرے پیٹ میں تھی ہی نہیں رنگ بھی چہرے کا جو زرد تھا اس میں تبدیلی یہ آئی کہ وُہ سُرخ ہو گیا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں