۷۸ از ۱۰۰
موٹر سائیکل روک کر مجھے اُتار دیا میں نے دو روپے جیب سے نکال کر موٹر سائیکل والے صاحب کو دے دیے انھوں نے روپوں کو ہوا میں گھما کر زمین پر دے مارا اور زبان سے یہ جملہ فرمایا رات کو خود بے چین رہے ہو اور ہمیں بھی بے چین رکھّا اور اب دو روپیہ دے رہے ہو۔ موٹر سائیکل سوار کے ان جملوں سے مجھے محسوس ہُوا کہ کہیں میرے پیر و مُرشد تو نہیں چنانچہ سرکارِ عالی کی خدمت میں پہنچا۔ میرا خیال صحیح تھا۔ کیونکہ جو جملہ موٹر سائیکل سوار نے کہا تھا وُہی جملہ سرکارِ عالی کی زبانِ اطہر پر تھا۔
خلیفہ ملک محمد رفیق حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے دوست منوّر شاہ نے ۱۹۵۵ء میں مجھے پیغام بھیجا کہ میں شاہی دربار اپنے پیر و مُرشد سرکارِ عالی کی خدمتِ اقدس میں کل روانہ ہو رہا ہُوں۔ آپ بھی دربارِ معلّٰی منڈیر سیّداں پہنچ جائیں۔
چنانچہ میں پیغام کا پابند نہایت عجز و نیاز سے دربارِ شاہی میں حاضر ہُوا۔ چند گھنٹوں کے بعد منوّر شاہ صاحب دربارِ عالیہ میں پہنچ گئے۔
منوّر شاہ صاحب نے اپنے سفر کی روداد یوں بیان کی کہ میں گھر سے چنیوٹ لاری اڈہ پر پہنچ کر ایک موٹر بس میں سوار ہو گیا۔ راستہ میں ایک تیز رفتار موٹر بس نے اشارہ ہماری موٹر بس کے روکنے کے لیے دیا۔ ہماری موٹر بس رُک گئی۔ اشارہ دینے والی موٹر بس کے ڈرائیور نے ٹائی راڈ ہماری موٹر بس کے ڈرائیور کو دیا اور ساتھ یہ بتایا کہ یہ ٹائی راڈ تمہاری بس کا ہے۔ ہماری موٹر بس کے ڈرائیور نے اپنی گاڑی کو چیک کیا تو حیران رہ گیا کہ ٹائی راڈ اسی موٹر بس کا تھا جو دُوسرے ڈرائیور نے تین میل کی دُوری سے اُٹھایا تھا۔
منوّر شاہ صاحب نے مجھے کہا کہ ملک رفیق صاحب۔ یہ حضور سرکارِ عالی کی کرم نوازی تھی کہ میں صحیح سلامت آپ کے سامنے موجُود ہُوں۔
مری کے خلیفہ محمد اعظم بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۱۴ء میں حضور سرکارِ عالی
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں