۷۷ از ۱۰۰
ہوتے اور میں اپنے مشاہدہ میں دیکھ [ناخواندہ] ہُوا کہ سرکارِ عالی نے ہوائی جہاز کو اپنے دستِ مُبارک میں اُٹھایا ہُوا ہے۔ میں یہ دیکھ کر مطمئن ہو گیا کہ اَب ہوائی جہاز کو کوئی خطرہ نہیں چنانچہ کراچی پہنچنے تک ہوائی جہاز میں کوئی خرابی نہ ہُوئی۔ بخیر و عافیت جہاز لینڈ کر گیا جب میں ہوائی جہاز سے باہر نکل رہا تھا جس طرح میں نے مشاہدہ میں دیکھا تھا کہ جہاز سرکارِ عالی نے اپنے دستِ مُبارک پر رکھّا ہُوا ہے اُسی طرح ہی دوبارہ جھلک نظر آئی۔
خلیفہ ملک محمد رفیق حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ منوّر شاہ جھنگ والے مرحُوم میرے دوست تھے اور ہم لوگ دِن رات اکٹھے رہے اُنہوں نے بتایا کہ ۱۹۳۱ء میں لنڈی کوتل میں سرکارِ عالی سے شرفِ بیعت حاصل کیا۔ اسی وقت منوّر شاہ صاحب کسی رجمنٹ کی اِمامت کرتے تھے۔ سرکارِ عالی جس رجمنٹ کی کافی شاپ کے جنرل منیجر تھے وُہ تبدیل ہو کر لنڈی کوتل سے الہ آباد چلی گئی۔
خلیفہ ڈپٹی مرزا افضل الرحمٰن صاحب جو منوّر شاہ صاحب کے بھائی تھے اُنہوں نے منوّر شاہ کو پیغام پشاور چھاؤنی سے ارسال کیا کہ میں اپنے مرشد سے مِلنے کے لیے صبح کی [ناخواندہ] سے الہ آباد جا رہا ہُوں۔ اگر صبح کو آپ لنڈی کوتل سے پشاور چھاؤنی اسٹیشن پر پہنچ جائیں تو تو ہم دونوں اکٹھے سرکارِ عالی کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔ منوّر شاہ صاحب کو یہ پیغام شام کو موصُول ہُوا جبکہ اُن کے پاس لنڈی کوتل سے پشاور پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ کیونکہ ڈپٹی صاحب نے جس ٹرین سے پشاور سے الہ آباد جانا تھا۔ اس کا ٹھیک ٹائم صبح چار بجے پشاور چھاؤنی سے روانہ ہونا تھا۔ اب ساری رات منوّر شاہ صاحب اپنے مرشد کی فرقت میں تڑپتے رہے کہ ڈپٹی صاحب تو پہنچ جائیں گے اور میں نہ پہنچ سکوں گا۔ اور [ناخواندہ] عالی کی تحریر لیکر چُومتے رہے خُدا خُدا کر کے رات گذری۔ وقت تہجد ٹھیک ۲ بجے منوّر شاہ صاحب کو سڑک پر ایک موٹر سائیکل سوار مِلا جس نے کہا تم تیار ہو کیا پشاور جانا ہے۔ میرے پیچھے بیٹھو میں پہنچا دیتا ہُوں۔ جب ہم پشاور پہنچے تو موٹر سائیکل سوار نے اسٹیشن کے قریب
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں