۷۶ از ۱۰۰
سرکارِ عالی نے فرمایا۔ شکر ہے تیری ذات کا کہ تو نے چیونٹی کی موت کی ذمّہ داری کے بار سے سبکدوش فرمایا۔
خلیفہ میر حسرت علیشاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب سرکارِ عالی انبالہ میں مقیم تھے۔ تو ایک یوم مجلس میں کچھ علما حضرات بھی موجُود تھے۔ دورانِ ارشادات سرکارِ عالی نے سترہ پارہ کی یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ○
موجود علما حضرات نے اعتراض کیا کہ آپ نے رحمۃ پڑھا ہے جبکہ یہ رحمۃً ہے آپؒ نے فرمایا قرآنِ حکیم میں دیکھو جب قرآن شریف دیکھا تو اس میں بھی رحمۃِ تھا۔ چنانچہ اُنہوں نے قرآنِ حمید کے کئی نسخہ جات منگوائے ہر نسخہ قرآن شریف میں رحمۃِ ہی تحریر تھا۔ علما حضرات خاموش ہو گئے۔
حضور سرکارِ عالی نے ارشاد پاک فرمایا کہ قرآنِ مجید میرے نانائے مکرّم معظم حضرت محمد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جو نازل ہوا ہے اس میں زیریں ہی ہیں۔ اَب نسخہ جات فرقان حمید کھول کر دیکھیں۔ علما حضرات نے جب نسخہ جات قرآنِ حمید دیکھے تو اَب رحمۃِ کی بجائے رحمۃً للعلمین تھا۔
حضور سرکارِ عالی نے علما حضرات کو ارشاد پاک کیا کہ زبان عربی میں بعض الفاظ ایسے بھی ہیں جن کو زبر کی بجائے زیر پڑھنے سے معنی میں کوئی فرق نہیں آتا جیسا کہ درود شریف تاج میں رَحْمَةَ لِّلْعٰلَمِیْنَ پڑھا جاتا ہے۔
خلیفہ خادم حُسین صدیقی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں جب تعلیم مکمّل کر کے انگلینڈ سے واپس آ رہا تھا۔ جس ہوائی جہاز میں سوار تھا اس میں خرابی پیدا ہو گئی اتنے میں خطرہ کی سُرخ بلیٹ ظاہر ہُوئی۔ تو سب سواریاں گھبرا گئیں۔ میں نے سرکارِ عالی کو یاد کیا۔ اس وقت میں کیا دیکھتا ہُوں کہ سرکارِ عالی بہ نفسِ نفیس ہوائی جہاز کی کھڑکی سے نمودا
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں