۷۵ از ۱۰۰
حضور پاکؒ نے سکھ اور اس کی بیوی کو ارشاد فرمایا۔ تم گھر جا کر دیکھو تمہارا لڑکا زندہ و سلامت ہے سکھ اور اس کی بیوی حضور پاکؒ کا ارشاد سُن کر چلے گئے دُوسرے یوم سکھ اور اس کی بیوی ایک بھینس حضور کے نذرانے کے لیے لیکر آئے اور سکھ نے بیان کیا کہ ہم نے جب قفل کھول کر اپنا لڑکا دیکھا تو زندہ سلامت تھا اور اس کے سینے پر حضور پاکؒ کے پھینکے ہُوئے پانی کے قطرے موجُود تھے۔ حضور پاکؒ نے نذرانے کی بھینس یہ کہتے ہُوئے واپس کر دی کہ فقیر بادشاہ ہوتا ہے اور وہ کسی قسم کا معاوضہ قبول نہیں کرتا۔
حضور پاکؒ کے بڑے پُرانے مُرید اور خلیفہ سیّد مناف الدّین صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور سرکارِ عالی ۱۹۳۱ء میں ملازمت کے سلسلہ میں لنڈی کوتل مسکن گزین تھے میں اور ڈپٹی فضل الرحمٰن اور یعقوب جان حضور کی خدمتِ اقدس میں بیٹھے ہُوئے تھے کہ ایک انگریز جس کے ہاتھ میں ایک تانبے کے پیسے کا سکّہ تھا حضور عالی کو دکھانے کے لیے لایا اور کہا کہ یہ آپ کے مُسلمان پیسے کے سکّہ کو پارہ چڑھا کر اٹھنّی بنا کر ہم انگریزوں کو لوٹتے ہیں۔ آپ نے سکّہ کی طرف نظر کی اور پھر انگریز کو کہا کہ دیکھو اس پر کوا[ناخواندہ] لکھا ہُوا ہے یا ایٹ آنہ انگریز نے کہا (حضور) پیر پادری صاحب اس پر تو ایٹ آ[ناخواندہ] لکھّا ہے۔ حضور نے انگریز سے کہا کہ تُم ایسے ہی مُسلمانوں کی شکایت کرتے ہو۔
خلیفہ ملک محمد رفیق حُسین بیان کرتے ہیں کہ میرے دوست منور شاہ نے مجھے بتایا کہ سرکار لنڈی کوتل میں تھے تو ایک یوم حضور سرکارِ عالی پشاور چھاؤنی میں مرزا خلیفہ ڈپٹی فضل الرحمان کی بیٹھک میں کرسی پر تشریف فرما تھے کہ غیر ارادی طور پر پاؤں مُبارک زمین پر اُوپر نیچے کر رہے تھے۔ اچانک تیزی کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ارشاد پاک کیا کہ بے چاری چیونٹی پاؤں کے نیچے آ کر مر گئی۔ چنانچہ حضور سرکارِ عالی کُرسی [ناخواندہ] کر قالین پر اکڑوں بیٹھ گئے اور چشمہ مُبارک اُتار اپنی نگاہِ اطہر چیونٹی پر جما دی اور مسلسل دیکھتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد چیونٹی نے پہلے اپنے پاؤں ہلائے اور اُٹھ کر چل پڑی
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں